خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 263 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 263

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۶۳ ۲۷ / دسمبر ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار اللہ تعالیٰ عزت کا سر چشمہ ہے جو خدا سے دور ہو گیا وہ تو ذلیل ہو گیا دوسرے روز کا خطاب جلسہ سالانہ فرموده ۲۷ / دسمبر ۱۹۶۸ء بمقام ربوه تشہد وتعوذ اور سورۃ فاتحہ کی تلاوت کے بعد حضور انور نے مندرجہ ذیل آیات قرآنیہ کی تلاوت فرمائی:۔إِنَّ اللهَ اشْتَرى مِنَ الْمُؤْمِنِيْنَ أَنْفُسَهُمْ وَأَمْوَالَهُمْ بِأَنَّ لَهُمُ الْجَنَّةَ يُقَاتِلُونَ فِي سَبِيلِ اللهِ فَيَقْتُلُونَ وَيُقْتَلُونَ وَعْدًا عَلَيْهِ حَقًّا فِي التَّوْرَيةِ وَالْإِنْجِيْلِ وَالْقُرْآنِ وَمَنْ أَوْ فِى بِعَهْدِهِ مِنَ اللهِ فَاسْتَبْشِرُوا بِبَيْعِكُمُ الَّذِي بَايَعْتُمْ بِهِ أَوْفَى وَذَلِكَ هُوَ الْفَوْزُ الْعَظِيمُ التَّابُونَ الْعَبدُونَ الْحَمِدُونَ السَّابِحُونَ الرَّكِعُونَ السُّجِدُونَ الْأَمِرُونَ بِالْمَعْرُوفِ وَالنَّاهُوْنَ عَنِ الْمُنْكَرِ وَالْحَفِظُونَ لِحِدُودِ اللهِ وَبَشِّرِ الْمُؤْمِنِينَ ( التوبة : ۱۱۲،۱۱۱) پھر حضور انور نے فرمایا:۔ایک عید تو وہ ہوتی ہے جو ہم رمضان کے مہینہ کے بعد مناتے ہیں یا حج کے موقع پر منائی جاتی ہے۔یہ دو عید میں سال میں آتی ہیں جن کے متعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ یہ ہمارے کھانے پینے اور خوشی منانے کے دن ہیں لیکن ایک اور عید ہے اور وہ وہ ہے جو کسی نبی کی بعثت کے بعد شروع ہوتی ہے اور اس کا زمانہ اس نبی کی کامیابیوں تک پھیلا ہوا ہوتا ہے۔جب اس قوم پر اس کی قیامت آجاتی ہے تو وہ عید بھی گزر جاتی ہے۔چونکہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی نبوت کا زمانہ قیامت تک پھیلا ہوا ہے اس لئے وہ عید جس کا تعلق نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ذات سے ہے وہ ایک دن یا دو دن کی عید نہیں بلکہ جب وہ عید شروع ہوئی اس وقت سے لے کر قیامت تک وہ عید جاری رہے گی۔