خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 16 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 16

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۶ ۲۰ / دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطا۔نہیں کرسکتا تو اُسے کم سے کم اپنے دل میں یہ عہد کر لینا چاہئے کہ آئندہ وہ اپنے ذمہ کوئی بقایا نہیں رہنے دے گا۔غرض صدر انجمن احمدیہ پر ایک عظیم ذمہ داری ڈالی گئی ہے اُسے اس کو پورا کرنے کی کوشش کرنی چاہئے۔اُسے جماعتوں سے ان احکام کی تعمیل کرانی چاہئے اور احباب جماعت کو بھی اپنے دلوں میں یہ عہد کر لینا چاہئے کہ ہم اپنی ذمہ داریوں کو نبھا ئیں گے اور پھر انہیں دعائیں کرنی چاہئیں کہ خدا تعالیٰ محض اپنے فضل سے ان کی کوششوں کے بہتر نتائج پیدا کرے۔صدر انجمن احمدیہ کے علاوہ تحریک جدید بھی جماعت کا ایک اہم شعبہ ہے اسے حضرت مصلح موعودؓ نے ۱۹۳۴ء میں شروع کیا تھا اور اس کی بڑی غرض یہ تھی کہ اکناف عالم میں اشاعت اسلام کے سامان پیدا کئے جائیں۔۱۹۳۴ء میں ہندوستان سے باہر بہت کم جماعتیں تھیں لیکن آج بعض ایسے ملک بھی ہیں جہاں کے احمدی چندہ دہندگان کی تعداد پاکستان کے چندہ دہندگان کے بالکل قریب پہنچ چکی ہے افریقہ کے بیشتر ممالک میں جماعت کو بہت ترقی نصیب ہوئی ہے وہاں عیسائیوں ، دہریوں ، بت پرستوں ، اور دوسرے مذاہب کے ماننے والے لوگوں میں سے ایک بڑی تعداد کو احمدیت اور اسلام نے اپنی طرف کھینچ لیا ہے اور انہیں اللہ تعالیٰ کے نور سے منور کیا ہے۔چنانچہ جو جماعتیں وہاں قائم ہوئی ہیں ان میں بڑے مخلص ، دعا گو اور خدا تعالیٰ کی خشیت اور خوف رکھنے والے لوگ پائے جاتے ہیں۔خدا تعالیٰ ان لوگوں سے ہم کلام ہوتا ہے اور وہ اس کے فضلوں کے وارث ہیں۔وہ لوگ آپ کے لئے بھی بڑا اخلاص رکھتے ہیں اور دعائیں کرتے ہیں یہ توقع رکھتے ہیں کہ آپ بھی ان کے لئے اس تڑپ اور جوش کے ساتھ دعائیں کریں گے۔اور یہ سارا نتیجہ ہے تحریک جدید کے کام کا جو حضرت مصلح موعودؓ نے ۱۹۳۴ء میں جاری کی تھی اس کی غرض دنیا میں ایک عظیم روحانی انقلاب پیدا کرنا تھا۔ہمیں دنیا سے کوئی غرض نہیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے کیا ہی خوب فرمایا ہے۔مجھ کو کیا ملکوں سے میرا ملک ہے سب سے جدا مجھ کو کیا تاجوں سے میرا تاج ہے رضوانِ یار یعنی ہمیں ظاہری حکومتوں طاقتوں اور ملکوں کی ضرورت نہیں ہمیں بنی نوع انسان کے دل کی