خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 247 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 247

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۴۷ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب وہاں کھڑے ہو کر دیکھیں تو ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ جو اس دنیا کی جنت سے اُخروی جنت کے باغات کے درخت ہیں۔وہ یہاں اعتقادات کی شکل میں نظر آتے ہیں اور جو نہریں وہاں چل رہی ہیں وہ اس دنیا والوں کو اعمال صالحہ کی شکل میں نظر آتی ہیں تو اللہ تعالیٰ فرماتا ہے اس دنیا میں تمہیں جنت مل جائے گی قرآن کریم کے احکام پر عمل کرتے ہوئے روح مسابقت کا مظاہرہ کرو تو تم جنت پالو گے اور سچی بات یہ ہے کہ اگر قرآن کریم کے احکام پر ساری دنیا عمل کرنا شروع کر دے تو یہ دنیا حقیقتا جنت بن جائے یہاں رہنے والوں کے لئے۔ہاں سَابِقُوا میں ایک تو روح مسابقت دکھانا ہے اور دوسرے یہ کہ یہ کوشش کرنی ہے کہ کوئی بھی اس دوڑ میں شامل ہونے سے رہ نہ جائے کیونکہ صرف ایک گروہ ہو تو وہ کس سے مقابلہ میں آگے بڑھیں گے۔اگر ایک شخص ہو دوسرے افراد نہ ہوں تو مسابقت کیا رہ جائے گی تو اس میں یہ تعلیم بھی دی گئی کہ جماعت احمدیہ کی اس رنگ میں اسی طرح تربیت کی جائے جس طرح صحابہ کی کی گئی تھی کہ ان میں سے کوئی شخص دوسرے سے پیچھے رہنا گوارا ہی نہیں کرتا تھا۔عورتوں کو ایک دفعہ خیال نہیں آیا تو وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گئیں اور عرض کیا کہ مردوں کو آپ وعظ و نصیحت کرتے ہیں وہ اس کے مطابق وہ عمل بجالاتے ہیں۔ہم وہ وعظ سننے سے محروم رہتی ہیں۔یہ بھی ایک ثواب ہے آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مجلس میں بیٹھنا اور آپ کی برکت سے حصہ لینا۔تو آپ نے ان کے لئے وقت مقرر کر دیا۔اس وقت طاغوتی طاقتوں نے اسلام کو تلوار کے زور سے مٹانا چاہا تھا تو نہتے مسلمانوں کو خدا تعالیٰ نے حکم دیا کہ اگر یہ تلوار کا معجزہ دیکھنا چاہتے ہیں تو چلو ان کو یہ معجزہ دکھا دیتے ہیں۔تم ٹوٹی ہوئی تلواریں لے کر میدان میں آ جاؤ۔جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ میدان جنگ میں پہنچ کر میرے حضور پیش کر دینا۔میں آسمان سے فرشتوں کو نازل کر کے تمہیں کامیاب کر دوں گا۔یہ جانہ دینے کی قربانی جو عارضی طور پر اس وقت لی گئی تو اس وقت بعض قبائل کو یہ خیال پیدا ہوا کہ سارے قبائل کے جو لوگ جا سکتے ہیں وہ جاتے ہیں اور ایک جیسا ثواب لیتے ہیں ہمیں باقیوں سے آگے نکلنا چاہئے تو اس روح مسابقت کے نتیجہ میں بعض قبائل نے سارے مردوں کو میدان جنگ میں شہید کروا دیا یعنی اتنی عظیم قربانی دی اور صرف اس روح مسابقت کی وجہ سے کہ ہمیں ان کے پہلو پہلو چلنا بھی پسند نہیں۔ہمیں ان سے آگے نکلنا چاہئے۔غرض صحابہ کی زندگیاں اس روح مسابقت