خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 241 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 241

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۴۱ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب بعد میں آنے والوں کو اللہ تعالیٰ نے ایک برگزیدہ جماعت قرار دیا تھا اور حقیقی معنی میں امت مہ انہیں ٹھہرایا تھا۔انہوں نے خدا تعالیٰ کے اس پیار کے نتیجہ میں اس کی راہ میں اپنی ساری کوششوں اور طاقتوں کو خرچ کر دیا اور جہاد کا حق ادا کر دیا پھر بعض لوگوں کی غفلت اور کوتاہیوں کے نتیجہ میں لیکن امت مسلمہ شروع سے لے کر قیامت تک جو ہے اس میں سے بعض کے الفاظ میں بول سکتا ہوں۔ویسے تو نہیں بہر حال انہوں نے اس احسان کو یاد نہیں رکھا کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں برگزیدہ بنایا ہے اور اس اجتباء کے نتیجہ میں جو ذمہ داری ان پر عائد ہوتی ہے وہ انہیں ادا کرنی چاہئے پس ان سے وہ بزرگی چھین لی گئی۔تو دیکھو کتنا تذلل کا زمانہ آیا بعض دفعہ اپنی تاریخ کو پڑھ کر رونا آتا ہے کہ کوئی ایسی ذلت نہیں جو ہمارے تصور میں آسکے اور وہ مسلمانوں کو سہنی نہ پڑی ہو سب کچھ چھن گیا۔دنیا کی عزت چھن گئی اور روحانی نعمتیں بھی چھینی گئیں اللہ تعالیٰ اب آپ کو مخاطب کر کے کہتا ہے کہ میں نے آسمان پر اسلام کے غلبہ کا فیصلہ کیا اور اس غلبہ کے لئے تمہیں اے جماعت احمد یہ ایک برگزیدہ مقام عطا کیا ہے کہ تمہیں اس جماعت میں شامل ہونے کی توفیق عطا ہوئی۔یہ بزرگی جو تمہیں دی گئی ہے یہ تم پر ایک فرض عائد کرتی ہے اور وہ یہ ہے کہ تم خدا اور اس کے دین کی راہ میں اپنی تمام طاقتوں اور قوتوں اور استعدادوں اور اموال اور عزتوں کو خرچ کر دو۔پس وَجَاهِدُوا فِي اللهِ حَقَّ جِهَادِم پر عمل کرو تا که تمہاری یہ بزرگی قائم رہے۔اس وقت تین چیزوں کے خلاف ہمیں جہاد کا حق ادا کرنا چاہئے ایک تو دجالی فتنہ شرک ہے اور دوسرا دہریت کا فتنہ ہے اور ہر دو فتنے اسلام پر حملہ آور ہیں اور ہر دو طاقتوں کے پاس اس قدر مادی سامان ہیں کہ اگر اللہ تعالیٰ کی طرف سے بشارت نہ ہو تو ان کا مقابلہ کرنے کا ہم تصور بھی نہیں کر سکتے۔یعنی عیسائیوں کا ( کہ جو اس وقت پیسے اور زور سے شرک پھیلا رہے ہیں ) ہم مقابلہ نہیں کر سکتے۔نہ ہمارے پاس ان جیسی طاقت ہے اور نہ ہمارے پاس اتنا پیسہ پھر دہریت ہے، کمیونزم ہے، اشتراکیت بھی ہے، اس نے اللہ تعالیٰ کی ہستی کے انکار کا علم بلند کیا ہے اور یہ دعویٰ کیا ہے کہ ہم زمین سے خدا کے نام اور آسمانوں سے خدا کے وجود کو ختم کر دیں گے (نعوذ باللہ ) اس کے مقابلہ میں ہمیں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ذریعہ یہ بشارت دی گئی ہے کہ بے شک یہ دعوی