خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 238
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۳۸ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب سے بھرا پڑا ہے لکھا ہے کہ جب شراب کی حرمت کا حکم نافذ ہوا تو جس قدر شراب برتنوں میں تھی وہ گرا دی گئی اور کہتے ہیں اس قدر شراب بہی کہ نالیاں بہہ نکلیں اور پھر کسی سے ایسا فعل شنیع سرزد نہ ہوا اور وہ شراب کے پکے دشمن ہو گئے (ملفوظات جلد نمبر ۲ صفحه ۴۱) اور پکے دشمن اس وقت ہوئے جب وہ شراب کے نشہ میں مدہوش تھے اور شراب کے نشہ کی مدہوشی میں بھی وہ دشمن اسلام کی روح کی بیداری کے نتیجہ میں بڑی شدت اختیار کر گئی۔مکے تو ڑ دیئے گئے اور کبھی خیال نہیں آیا ان کو ان عادتوں کے باوجود کہ ہم اس بُری چیز کے قریب جائیں گے۔اس لئے کہ ہمیں خدا کے رسول نے اس سے منع کر دیا ہے جب ابو عبیدہ اور ابوطلحہ اور ابی بن کعب نے کہا کہ مٹکے اسی وقت توڑ دو اس وقت قرآن کریم کتاب حکیم ہے۔حکمت یہ بھی بتاتی ہے لیکن اس وقت ان کے پاس اس حکم کی کوئی حکمت نہ تھی ان کے پاس تو صرف آواز ہی پہنچی تھی نا کہ شراب حرام ہوگئی۔کیوں حرام ہوئی اس کا ابھی پتہ نہیں لگا تھا لیکن اطاعت کا جذبہ اور اطاعت کی روح اس قدر پختہ اور بیدار تھی کہ نشہ کی حالت میں بھی اطاعت کر گئے اور دنیا میں اپنا اور امت مسلمہ کا ایک حسین نام چھوڑ گئے۔اس قسم کی اطاعت خدا اور اس کے رسول کی اگر ہم کریں تو خانہ کعبہ کے مقاصد ہم حاصل کرتے ہیں۔اگر ہم ایسا نہ کریں تو وہ مقاصد ہم حاصل نہیں کر سکتے کیونکہ صحابہ سے پہلے کسی نے وہ مقاصد حاصل نہیں کئے اور بعد میں بھی جو ان کا ہم شکل نہیں بنا۔اس نے یہ مقاصد حاصل نہیں کئے تو نفس امارہ کو کلی طور پر ذبح کر دینا اور اطاعت اور فرماں برداری اور اتباع کے اعلیٰ مقام پر کھڑا ہونا یہ صفت ہمارے اندر ہو چاہئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام فرماتے ہیں۔وہ عبادت جو آخرت کے خسارہ سے نجات دیتی ہے وہ اس نفس امارہ کا ذبح کرنا ہے کہ جو بُرے کاموں کے لئے زیادہ سے زیادہ جوش رکھتا ہے اور ایسا حاکم ہے کہ ہر وقت بدی کا حکم دیتا رہتا ہے پس نجات اس میں ہے کہ اس بُر احکم دینے والے کو انقطاع الی اللہ کی کار دوں سے ذبح کر دیا جائے اور خلقت سے قطع تعلق کر کے خدا تعالیٰ کو اپنا مونس اور آرام جان قرار دیا جائے اور اس کے ساتھ انواع واقسام کی تلخیوں کی برداشت بھی کی جائے۔تانفس غفلت کی موت سے نجات پاوے اور یہی اسلام کے معنے ہیں اور یہی کامل