خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 231 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 231

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۳۱ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب کسی اور کی طرف رجوع نہ کرے اس کی مثال صحابہ کی زندگی میں ہمیں بہت جگہ نظر آتی ہے۔میں ایک دو مثالیں یہاں دے دیتا ہوں۔ایک مثال تو کل میں نے مستورات کی تقریر میں دی تھی۔وہ اس آیت سے تعلق رکھتی ہے۔یعنی اس میں یہ ہے کہ جو لوگ اپنی بیویوں کے ساتھ محبت رکھتے ہیں وہ اس محبت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر قربان کر دیں۔جو بیویاں اپنے خاوند سے انتہائی محبت رکھتی ہیں وہ اس انتہائی دنیوی محبت کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت پر قربان کریں۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک موقع پر ایک جنگ کے لئے مدینہ سے باہر جاچکے تھے۔ایک صحابی جو کسی اور طرف باہر گئے ہوئے تھے واپس آئے۔ان کو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے سفر پر جانے کا علم نہیں تھا لیکن ان کی بیوی کو علم تھا۔وہ اپنے گھر میں بڑے خوش خوش پہنچے کہ ایک لمبے فراق کے بعد میں اپنی بیوی کے پاس آ رہا ہوں۔وہ ابھی اسی محبت سے آگے بڑھے تو اس نے دونوں ہاتھوں سے دھکا دیا اور ان کو پیچھے ہٹا دیا اور کہا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جہاد کے لئے گئے ہوئے ہیں اور تم اپنی بیوی کی طرف متوجہ ہور ہے ہو اور اسی وقت ان کو گھر سے نکال کر باہر بھیج دیا اور کہا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مل کر جنگ کرو۔(دیباچہ تفسیر القرآن صفحه ۲۲۶) ایک اور مثال جنگ تبوک کے لئے جب آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم روانہ ہو گئے اور جب حضور کو مدینہ سے گئے ہوئے کئی روز گزر گئے تو ابوخضیشمہ ایک دن اپنے گھر میں آئے۔وہ کہیں باہر گئے ہوئے تھے۔وہ وقت سخت گرمی کا تھا اور ان کی دو بیویاں تھیں۔انہوں نے دیکھا کہ ان کی دونوں بیویوں نے اس خیال سے کہ ان کا خاوند باہر سفر سے واپس آیا ہے ان کے لئے ٹھنڈے پانی کا انتظام کیا ان کی مہمان نوازی کے لئے بڑا اچھا کھانا پکا یا۔جب وہ گھر میں آئے تو ان کو پتہ لگا کہ حضور جنگ تبوک کے لئے روانہ ہو چکے ہیں اور گھر میں انہوں نے دیکھا کہ ان کی بیویاں بن سنور کر بیٹھی ہوئی ہیں ان کا انتظار کر رہی ہیں۔ٹھنڈا پانی ہے اور اچھا کھانا ہے۔جب ان کو پتہ لگا تو انہوں نے کہا کہ افسوس ہے۔رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم تو اس گرمی میں دور کے سفر میں ہوں اور ابوخیثمہ یہ ٹھنڈا پانی اور یہ عمدہ کھانا خوبصورت عورتوں کے پاس بیٹھ کر کھائے۔یہ ہرگز انصاف نہیں۔ابو خیثمہ نے اسی وقت اپنی بیویوں سے کہا کہ کھانا پرے ہٹا دو۔سامان سفر تیار کرو تا کہ میں