خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 228
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۲۸ ۱۳ جنوری ۱۹۶۸ء۔اختتامی خطاب احسان ہو چکا اتنے انعامات کا نزول ہو چکا اتنا فضل اور رحمتیں ہو چکیں کہ آگے اگر فضل اور رحمتیں نہ بھی ہوں تب بھی اگر ہم اس محبت کو قائم رکھیں اور اس تعلق کو پختہ رکھیں تو شکر یہ ادا نہیں ہوسکتا۔اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں اپنے حسن کا بار بار ذکر کیا ہے اور اس طرح پر توجہ دلائی ہے کہ اللہ تعالیٰ کا حسن اس قدر عظیم ہے کہ اگر تم اس کی معرفت اور عرفان حاصل کر لو تو اس سے محبت کے بغیر رہ نہیں سکتے کسی قسم کے بدلہ کی خواہش نہیں کسی قسم کے فیض کے حصول کی نیت نہیں صرف اس لئے کہ حسن ہے ہی ایسا کہ انسان کی فطرت اس کی طرف مائل ہوتی ہے اور اس سے محبت کرتی ہے مثلاً یہ گلاب کا پھول ہے جو بھی شخص اس کو دیکھے گا کہے گا بڑا خوبصورت ہے اس کے حسن سے ہر شخص متاثر ہوتا ہے حالانکہ یہ گلاب کا پھول زبانِ حال سے یہ کہ رہا ہے کہ میں تمہیں کوئی فیض نہیں پہنچاؤں گا لیکن حسن خود اپنی طرف مائل کرتا ہے گلاب کے پھول کا یہ حسن اللہ تعالیٰ کے حسین جلوں کی ایک ہلکی اور خفیف سی جھلک ہے۔خدا کے حسین جلوے اس کثرت کے ساتھ اور اس شدت کے ساتھ دنیا پر جلوہ گر ہو رہے ہیں اور اس کی حسین صفات اس طرح انسانوں کو اپنی طرف متوجہ کر رہی ہیں کہ انسان کی آنکھ کھل جائے اور اسے بصارت حاصل ہو تو اس حسین ہستی سے محبت کئے بغیر رہ ہی نہیں سکتا۔تو جب میں نے یہ کہا کہ ہر احمدی کے دل میں اپنے رب کے لئے محبت پیدا ہونی چاہئے تو میری مراد یہ ہے کہ ہر احمدی کے دل میں اپنے رب کے لئے ذاتی محبت پیدا ہونی چاہئے اس حُسن کے نتیجے میں جس کی وہ معرفت حاصل کرے اسی حسین صفات کے نتیجہ میں جس کا وہ عرفان حاصل کرے خدا تعالیٰ کی محبت اس کے دل میں ہو قطع نظر اس کے کہ اس نے ہم پر کتنے احسان کئے یا آئندہ ہم اس کے احسانوں کے بغیر زندہ نہیں رہ سکتے قطع نظر اس کے ذاتی محبت ہمارے دل میں اپنے رب کے لئے پیدا ہونی چاہئے۔دوسرے احسان کی پہلی قسم سے بھی اس قسم کی محبت ذاتی پیدا ہوتی ہے اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں فرماتا ہے کہ میں نے تم پر اتنے احسان کئے ہیں کہ تم ان کو شمار نہیں کر سکتے اللہ تعالیٰ کی رحمانیت کے جلوے جو میرے اور آپ میں سے ہر ایک کے لئے آج سے قبل دنیا پرظاہر ہو چکے ہیں وہ اس کثرت کے ساتھ ہیں کہ اگر ہم اپنا ہر سانس اللہ تعالیٰ کے شکر کی ادائیگی میں لیں تو ہماری زندگی کے سانس ختم ہو جائیں گے اور اللہ تعالیٰ کی نعمتوں کا شمار جو ہے وہ تو ہو ہی نہیں سکتا لیکن اگر آپ اندازہ کرنا چاہتے ہیں