خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 219
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۱۹ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار دعوت کی ( روزہ کھولنے کے بعد یا روزہ کی افطاری کے وقت ) امام کمال یوسف لکھتے ہیں کہ میں نے اس کو کہا کہ تم بھی وہاں جانا تو اس نے انکار کر دیا اور کہا میں نہیں جاؤں گی۔ابھی کچھ دن دعوت میں باقی تھے میں خاموش ہو گیا۔لیکن جس دن جانا تھا میں نے اس سے جانے کے لئے اصرار کیا اور کہا اس شخص نے دعوت کی ہے اور تمہیں دعوت قبول کرنی چاہئے وہ کہنے لگی یہ دن کب کسی شخص کو نصیب ہوئے ہیں۔مسجد میں دعائیں کرنے کے مجھے اس کا موقع ملا ہے اس لئے میں تو اپنا ایک منٹ بھی مسجد سے باہر خرچ کرنا نہیں چاہتی۔اب دیکھ لو وہ چند مہینوں کی ایک نومسلمہ تھی اور پھر نو جوان تھی اور گندے ماحول میں پیدا ہوئی تھی اور وہیں اس نے پرورش پائی تھی۔پھر یو نیورسٹی کی طالبہ تھی یہاں کی بچیاں باہر جا کر مغربی تہذیب کا اثر لے لیتی ہیں لیکن اللہ تعالیٰ کے فرشتے ان قوموں میں ایسے آدمی پیدا کر رہے ہیں کہ جن کے دلوں کو وہ اپنے ہاتھ میں پکڑ کر ان کا پرانا خون نچوڑ دیتے ہیں اور اسلام کا نیا خون ان میں بھر دیتے ہیں۔باتیں اور بھی بہت سی تھیں لیکن وقت بہت ہو گیا۔ایک عظیم معجزہ جو اللہ تعالیٰ نے وہاں دکھایا ہے وہ میں آپ کو بتا دیتا ہوں اور اس کے اوپر ہی میں آج کی تقریر ختم کروں گا۔ہم وہاں گئے اور اس ملک اور دوسرے بعض ممالک کا دورہ کیا اور واپس آگئے۔میں ۲۱ اگست کو کراچی پہنچا ہوں۔اکتوبر میں عبدالسلام صاحب میڈیسن نے جو ڈنمارک میں ہمارے آنریری مبلغ ہیں مجھے خط لکھا کہ آپ ایک انذار ان کے سامنے پیش کر گئے تھے۔اب ایک چین ری ایکشن (Chain reaction) ایک سلسلہ انذاروں کا شروع ہو گیا ہے۔اور وہ اس طرح کہ ایک شخص جس کا نام رچرڈ گر یو ہے اس نے یہ دعوی کیا ہے کہ آسمان کے خدا نے مجھے وحی کے ذریعہ یہ بتایا ہے کہ کرسمس کے دن تک دنیا تھرمونیوکلیئر جنگ میں کلیۂ تباہ ہو جائے گی اور وہی لوگ بچیں گے جو میرے گرد جمع ہو جائیں گے اور آسمان کے خدا کی اس آواز پر لبیک کہیں گے جو اسے سنائی گئی ہے۔اس نے یو نیورسل لنک کے نام سے یہ تحریک وع کی ہے اور یہاں ڈنمارک میں بھی اشتہاروں کے ذریعہ اس یو نیورسل لنک کا پروپیگنڈا اور تبلیغ کی گئی ہے۔اور جس وقت انہوں نے یہ بات لکھی تھی اس وقت ان کے علم کے مطابق چالیس آدمی اس کے ساتھ شامل ہو گئے تھے اور وہاں غالباً ایک سکول ٹیچر اس کا نمائندہ تھا۔اس نے لوگوں سے پیسے بھی لئے اور تھرمونیوکلیئر جنگ سے بچنے کے لئے ایک تہہ خانہ بھی پولیس کی اجازت کے بغیر بنایا بلکہ ان کے