خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 205 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 205

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۰۵ ۱۲/جنوری ۱۹۶۸ء۔دوسرے روز کا خطار وہ اس کی طرف رجوع کریں اور اس کے رسول محمد صلی اللہ علیہ وسلم کے عافیت بخش سایہ کے نیچے آجائیں ورنہ وہ تباہ ہو جائیں گے اور دوسری طرف یہ احساس بھی اپنی شدت پر تھا کہ میں ایک بڑا ہی نالائق اور کم مایہ انسان ہوں اور یہ ذمہ داری بڑی اہم ہے اگر خدا تعالیٰ کا فضل شامل حال نہ ہو تو میرے بس کی یہ بات نہیں ہے۔تب میں نے بے حد دعائیں کیں اور آپ بھائیوں سے بھی کہا کہ آپ بڑی کثرت سے یہ دعائیں کریں کہ جس مقصد کے لئے میں وہاں جانا چاہتا ہوں وہ مقصد پورا ہو۔اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے میری زبان میں تاثیر پیدا کرے اور میری ہر حرکت اور سکون سے وہ متاثر ہوں اس رنگ میں کہ وہ اسلام کی طرف رجوع کرنے کے لئے تیار ہو جائیں وہ میری طرف متوجہ ہوں اور میری باتوں کو غور سے سنیں۔چنانچہ اللہ تعالیٰ نے ہم عاجز بندوں کی دعاؤں کو سنا اور سفر اختیار کرنے سے قبل ہی اس نے ہم میں سے بیسیوں کو مبشر رویا کے ذریعہ تسلی دی کہ بندہ عاجز اور کم مایہ ضرور ہے۔مگر جب اللہ تعالیٰ کا فضل اس کے شامل حال ہو جائے تو اسے کسی وجہ سے کسی ملک سے کسی طاقت سے گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے۔کیونکہ وہ جو سب طاقتوں کا مالک ہے اور سب قوتوں کا سرچشمہ ہے وہ اس کی پیٹھ کے پاس کھڑا ہوتا ہے وہ اس کے پہلو میں ہوتا ہے اور کہتا ہے گھبراؤ نہیں میں تمہارے ساتھ ہوں۔میں نے ایک نہایت ہی حسین رؤیا دیکھی تھی جو چھپ بھی چکی ہے اس کی تعبیر کا ایک پہلو جو میرے ذہن میں آیا تھا وہ میں نے ابھی تک نہیں بتایا کیونکہ اس میں ان قوموں کے لئے انذار کا پہلو ہے۔( ہمارے لئے نہیں ان قوموں کے لئے انذار کا پہلو ہے ) اور میں دعا کر رہا ہوں آپ بھی دعا کریں کہ اللہ تعالیٰ انہیں ہلاکت سے محفوظ رکھے اپنی نعمتوں سے نوازے اور اپنے اس پیار اور رضا کا انہیں وارث بنائے جو اس وقت تک انہیں نہیں مل سکتی جب تک کہ وہ اسلام پر ایمان لا کر اپنی گردنوں کو قرآن کریم کے جوئے نیچے نہیں رکھ دیتے اللہ تعالیٰ ان کو سمجھ اور عقل عطا کرے اور وہ اپنی فلاح اور بہبود کو سمجھنے لگیں اور اللہ کو پہچانے لگیں اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے حسن پر عاشق ہو جائیں اس مبشر رویا کے ذریعہ جس ہستی نے ہمیں تسلی دلائی ہے وہ تمام قدرتوں کی مالک ہے۔میں نے اپنے سفر کو اپنی اور آپ کی دعاؤں کے ساتھ شروع کیا اور اللہ تعالیٰ نے اتنا فضل کیا