خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 178
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) IZA ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب ان دنوں میں بھی مشغول رہتے ہیں۔کئی دن تک اداسی محسوس کرتے ہیں۔ہمارے دماغ کے پیچھے کوئی چیز ا داسی محسوس کرتی ہے ہمیں اس کا احساس دلاتی رہتی ہے کہ ہمارے کچھ بھائی خدا تعالیٰ کی آواز پر لبیک کہتے ہوئے یہاں اکٹھے ہوئے اور ان کی وجہ سے محبت اور پیار کی فضا اور دعاؤں کی قبولیت کی فضا پیدا ہوئی اور اب ان میں سے ایک بھاری اکثریت یہاں سے واپس جاچکی ہے اور صرف ربوہ کے مکین ربوہ کی اداسیاں دیکھنے کے لئے یہاں باقی رہ گئے ہیں۔اللہ تعالیٰ آپ کا ہر طرح حافظ و ناصر ہو اور اپنے مکانوں میں جب آپ واپس لوٹیں تو پہلے سے بھی زیادہ اللہ تعالیٰ کی برکتوں اور اس کی رحمتوں کے نشان وہاں آپ کو نظر آئیں اور خدا تعالیٰ کی نصرت اور اس کی تائید آپ کو حاصل ہو۔اگر آپ کبھی ابتلاء میں ڈالے جائیں یا اپ امتحان میں ڈالے جائیں تو آپ کا دل اس سکون اور اس راحت کو محسوس کرے جو ایسے ابتلاؤں کے وقت اللہ تعالیٰ کے نیک بندے محسوس کیا کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ آپ کو قربانی اور ایثار کی زیادہ سے زیادہ تو فیق عطا کرتا چلا جائے اور اللہ تعالیٰ کی محض اپنے فضل سے آپ کی ان قربانیوں اور آپ کے ایثار کے ان نمونوں کو قبول کرتا چلا جائے اور اس کے بدلہ میں اللہ تعالیٰ آپ کو اسی دنیا میں بھی جنت کا وارث کرے اور یہ جنت اس معنی میں ابدی بن جائے کہ جب آپ اس جنت کو جو د نیوی جنت ہے۔چھوڑیں تو آپ لوسید ھے اخروی جنت میں لے جایا جائے اور ان دو جنتوں کے درمیان کوئی حد فاصل نہ ہو۔پھر ہمارے بہت سے بھائی (احمدی اور مسلمان ) کشمیر میں بستے ہیں۔وہ جو جسمانی احساس اور جذباتی تکالیف وہاں اٹھا رہے ہیں۔ان کو سمجھنا بھی ہم میں سے بہتوں کے لئے مشکل ہے لیکن ہم میں سے ہر ایک کے لئے اگر ہم چاہیں ان کے لئے دعا کرنا آسان ہے۔پس انہیں ہمیشہ اپنی دعاؤں میں یا درکھیں۔اللہ تعالیٰ ان کے لئے بہتری کے سامان پیدا کرے۔اللہ تعالیٰ ان کی خوشیوں کے سامان پیدا کرے۔اللہ تعالیٰ ان کے لئے آزادی کے سامان پیدا کرے کہ وہ بے فکری کے ساتھ دینِ اسلام کے احکام کی پیروی کر سکیں اور جرأت اور دلیری کے ساتھ اور امن اور صلح کی فضا میں وہ اعلائے کلمہ حق کر سکیں اور اللہ تعالیٰ انہیں تو فیق عطا کرے کہ وہ آزادی کے ساتھ جہاں چاہیں جاسکیں اور جس طرح چاہیں کوشش کر سکیں اور جو کچھ وہ خدا تعالیٰ سے چاہ رہے ہوں گے اور جو کچھ ہم ان کے لئے چاہ رہے ہیں۔اللہ تعالیٰ وہ سب ان کو عطا کرے۔