خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 174
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۷۴ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب کسی محدث کا فعل یا قول پیش تو کرو۔جس میں لکھا ہو کہ یہ حدیث موضوع ہے اور اگر کسی جلیل الشان محدث کی کتاب سے اس حدیث کا موضوع ہونا ثابت کر سکو۔تو ہم فی الفور ایک سو روپیہ بطور انعام تمہاری نذر کریں گے۔جس جگہ چاہو امانتا پہلے جمع کرالو۔“ (تحفہ گولڑویہ۔روحانی خزائن جلد نمبر ۱۷ صفحه ۱۳۳ ۱۳۴) عقلاً تو ویسے ہی یہ موقف درست نہیں کہ ہزار سال پہلے کی ایک کتاب میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب ہو ایک بات لکھی گئی ہو اور وہ حدیث ہو غلط اور پھر اللہ تعالیٰ کی قدرت یہ انتظام کرے کہ وہ حدیث کچی ہو اس وقت۔جس وقت ایک مدعی مہدویت بھی پیدا ہو چکا ہو۔جس وقت ایک شخص مہدی ہونے کو دعویدار ہو۔اس وقت خدا تعالیٰ کی تقدیر کی تاریں ہلیں اور عین اس حدیث کے مطابق چاند اور سورج کو گرہن لگ جائے اور عین اس حدیث کے اشارہ کے مطابق ایک سال میں اس دنیا میں اور دوسرے سال دوسری دنیا میں گرہن لگے اور اس کو آیتین (دونشان) بنادے اور اس کے علاوہ دنیا کی تاریخ میں ہمیں یہ نہ ملے کوئی ایسی خبر نہ ملے کہ کبھی کسی شخص نے مہدی ہونے کا دعویٰ کیا ہو اور اس کے زمانہ میں چاند اور سورج کو اس شکل میں گرہن لگا ہو۔عقل تو اس بات کو تسلیم نہیں کر سکتی کہ یہ بات جھوٹی ہو لیکن حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان لوگوں پر اتمام حجت قائم کرنے کے لئے یہ بھی فرمایا کہ اگر تم عقل سے کام نہیں لینا چاہتے کسی وجہ سے۔اور تمہاری طبیعتیں نقل کی طرف مائل ہیں تو ہم تمہارے سامنے یہ طریق فیصلہ رکھتے ہیں کہ تم کسی پایہ کے عالم اور حدیث دان کا یہ قول نکال دو کہ اس نے اس حدیث کو موضوع اور نا قابل قبول قرار دیا ہو۔آخر جس حدیث کی کتاب میں یہ روایت درج ہے۔اس کی تالیف پر ہزار سال گذر چکے ہیں اور سینکڑوں بلکہ ہزاروں عالم اُمت مسلمہ میں پیدا ہوئے ہیں۔جن کی نظر سے یہ حدیث ضرور نکل چکی ہے اور ان میں سے بہتوں نے اس حدیث کو اپنی کتابوں میں نقل کیا یا اس کی طرف اشارہ کیا ہے لیکن ان میں سے کسی نے بھی یہ نہیں کہا کہ یہ حدیث نا قابل قبول ہے اور اس کے راوی ثقہ نہیں ہیں۔اس لئے اس کو رد کر دینا چاہئے اور اگر تم یہ ثابت کر دو کہ کسی عالم نے اسے نا قابل قبول قرار دیا ہے تو ہم سمجھیں گے کہ یہ حدیث ہمارے لئے دلیل نہیں لیکن ابھی تک اس حدیث کو کوئی عالم بھی رد نہیں کر سکا۔اب اگر کو ئی شخص یہ ثابت کر دے کہ کسی شخص نے