خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 7
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۷ ۲۰ دسمبر ۱۹۶۵ء۔دوسرے روز کا خطاب بعد آپ کے خلفاء کی کتب ہیں اور پھر آپ کے بعد ان کوششوں کے نتائج ہیں جو دورانِ سال ہمارے علماء کرتے ہیں۔اس وقت جن کتب، رسائل اور اخبارات کے متعلق مجھے سفارش کے لئے کہا گیا ہے۔ان میں سے ایک روز نامہ الفضل ہے۔الفضل ہمارا مرکزی اخبار ہے اور اس کے بمشکل ۳۶۰۰ مستقل خریدار ہیں۔جب کہ ہماری جماعت خدا تعالیٰ کے فضل سے لاکھوں کی ہے۔یہ بڑے ہی افسوس کی بات ہے۔اس کی ذمہ داری ایک حد تک خود الفضل کے ادارہ پر ہے۔جنہوں نے اس کے معیار کو اتنا بلند نہیں کیا جتنا کہ جماعت ان سے توقع رکھتی ہے لیکن اس کی ایک حد تک ذمہ داری ہم پر بھی ہے کہ ہم اپنے اس مرکزی اخبار کو اتنی وقعت نہیں دیتے۔جتنی کہ دینی چاہئے اور نہ اس کی اشاعت کے لئے کوشش کرتے ہیں۔۳۶۰۰ بھلا کوئی تعداد ہے۔بہت سی ایسی جماعتیں ضرور ہوں گی جہاں تک الفضل نہیں جاتا یا پچھلے سال تک نہیں جاتا تھا کیونکہ گزشتہ سال صدر انجمن احمدیہ نے یہ کوشش کی تھی کہ ہر جماعت میں کم از کم ایک کاپی الفضل کی ضرور پہنچ جایا کرے۔پس ایک طرف میں ادارہ افضل سے یہ کہوں گا کہ وہ ان مل سے یہ کہوں گا کہ وہ الفضل کے معیار کے بہت جلد باند کرنے کی کوشش کریں۔حضرت خلیفہ المسیح الثانی المصلح الموعود نے جب یہ اخبار جاری کیا تھا تو پ نے ایک نوٹ شائع کیا تھا۔جس میں آپ نے یہ بتایا تھا کہ میں الفضل کو اس طرح چلاؤں گا آپ نے سات آٹھ عنوان تحریر کئے تھے اور لکھا کہ میں ان عنوانوں پر مضامین شائع کرتا رہوں گا اور قرآن کریم کی عام تفسیر کے علاوہ ہر ہفتہ اسلام کی ایک دل آویز خوبی لکھا کروں گا اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی سچائی کی کوئی نہ کوئی نئی دلیل پیش کیا کروں گا۔یہ صحیح ہے کہ اس وقت یہ اخبار ہفتہ وار تھا۔اب روز نامہ ہے اور ہفتہ وار اور روز نامہ اخبار میں کچھ فرق ہوتا ہے لیکن اگر ہم آگے نہ بھی بڑھتے بلکہ اس منصوبہ اور خواہش کے مطابق جس کا حضرت المصلح الموعودؓ نے اعلان فرمایا تھا۔اخبار کے معیار کو بلند کرنے کی کوشش کرتے۔تو آج احمدی اسے دیوانہ وار خرید تے پس میرے نزدیک اس کی بڑی حد تک ذمہ داری ادارہ الفضل پر ہے لیکن جب آپ لوگ ، آپ دوست ، آپ میرے بھائی اس اخبار کو خریدیں گے نہیں ، اُسے پڑھیں گے نہیں تو آپ اپنی اس ذمہ داری کو کیسے ادا کریں گے۔آپ نے اس اخبار کے معیار کو بڑھانا ہے۔آپ جب اسے پڑھیں گے اور دیکھیں گے کہ اس کے اندر کچھ نقائص ہیں اور کہ یہ ہماری ضرورتوں کو پورا نہیں