خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 167 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 167

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۶۷ ۲۸ جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب بڑا ظلم ہے کہ ایک شخص کو کہا جائے تم ضرور پانچ گھنٹہ تو بولو۔جب کہ وہ خود اس نتیجہ پر پہنچا ہو کہ ان تمام عنوانات کے متعلق وہ اپنی کتاب کی رو سے صرف ہیں منٹ گفتگو کر سکتا ہے۔اس سے زیادہ اس کتاب میں دلائل ہیں ہی نہیں۔اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا۔میری شرط یہ ہے کہ میں پانچ گھنٹہ تک بولوں گا۔تمہیں اجازت ہے کہ جتنا چاہو۔بولو تم چاہے پانچ منٹ بولو یا ہیں منٹ بولو۔مجھے اس پر کوئی اعتراض نہیں ہوگا لیکن مقابلہ مجموعی طور پر ہوگا تا یہ دیکھا جائے کہ کامل نبی کون ہے اور زندہ نبی کون ہے اور کس نبی کی قوت قدسیہ اب بھی جاری ہے۔۔یہ دعوتِ فیصلہ بشپ آف لاہور کے ساتھ ہی ختم نہیں ہوئی بلکہ بشپ آف لاہور کے تمام بشپ بھائیوں کو ہماری طرف سے یہ دعوتِ فیصلہ ہے کہ جو بشپ بھی۔جس ملک میں بھی ، جس جگہ بھی ہو۔وہ ان شرائط کے ساتھ اس دعوتِ فیصلہ کو قبول کرلے اور امن اور شرافت کی مجلس میں تبادلہ خیالات ہو تو اس کا نتیجہ خود ہی نکل آئے گا کہ کامل اور زندہ نبی حضرت عیسی علیہ السلام ہیں یا ہمارے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کامل اور زندہ نبی ہیں۔ہندوؤں سے کچھ باتیں اب میں ہندوؤں سے کچھ باتیں کہنا چاہتا ہوں کیونکہ ہمارا موقف یہ ہے کہ ہم نے خدا تعالیٰ کے فضل اور احسان سے اور اس کی دی ہوئی توفیق سے اسلام کو تمام دنیا میں پھیلانا ہے اور تمام ادیان کے مقابلہ میں اسلام کی حقانیت اور صداقت کو ثابت کرنا ہے۔ہمارے مخاطب تمام مذاہب کے پیرو ہیں۔اس وقت پاکستان میں گو ہندو کم تعداد میں ہیں اور شاید وہ اس چیز سے گھبرائیں بھی لیکن ہندوستان میں تو ان کو سیاسی اقتدار بھی حاصل ہے اور ہم وہاں آنے کے لئے تیار ہیں اسلام کی صداقت ثابت کرنے کے لئے اور اگر وہ چاہیں ان کو یہاں بلانے کے لئے تیار ہیں اور جیسا کہ ہم امن پسند ہیں۔ہماری حکومت بھی خدا تعالی بخشی ہوئی توفیق اور اس کے فضل سے امن پسند ہے اور اگر وہ یہاں آئیں گے تو وہ خود ایسا انتظام کر دے گی مجھے یقین ہے کہ ہم نہایت امن اور سکون کے ساتھ اور نہایت اچھی اور شریفانہ اور مہذب فضا میں تبادلہ خیالات کر سکیں یعنی اگر وہ چاہیں تو سرمه چشمہ آریہ کتاب کا جیسا کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا ہے۔ردیکھیں