خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 163
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب معارف و خواص کلام الوہیت بہ تفصیل بیان کریں گے۔“ یعنی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰہ والسلام نے فرمایا تھا کہ اگر تم میرا یہ چیلنج قبول کر لو۔تو ہم ایک کتاب شائع کریں گے۔جس میں سورۃ فاتحہ کی تفسیر ہو گی تم اس کتاب کو پڑھو اور ان دلائل کو سمجھو جو اس میں دیئے گئے ہیں اور اللہ تعالیٰ کی حکمتوں پر غور کرو اور خدا تعالیٰ کے جو نشان اس چھوٹی سی سورت میں جمع کر دیئے گئے ہیں وہ نشان اپنی بصیرت اور بصارت کے سامنے لاؤ۔اور پھر اگر تمہیں ہمت ہو تو تم اپنی ساری کتب میں سے اس قسم کے دلائل اور حکمتیں اور معرفت کی باتیں اور نشانات آسمانی نکال کر ہمیں دکھاؤ تو ہم سمجھیں گے کہ تم مقابلہ کر سکتے ہو اور انعام لے لو۔ہم جو باتیں اس تفسیر میں بیان کریں گے۔ان میں سے بہت ساری ایسی ہوں گی جو انسان کے ہاتھ کی ہو ہی نہیں سکتیں۔بالا ہوں گی لیکن اس پادری نے میرا اعلان پڑھتے ہی جواب دیا کہ ہم نے اس چیلنج کو قبول کیا۔سورۃ فاتحہ میں ہے۔اَلْحَمْدُ لِلَّهِ رَبِّ الْعَالَمِین اس آیت میں جوحمد کا لفظ اس آیت میں ہے۔وہ ہمارے ایک ترجمہ کرنے والے نے اردو کی بائبل میں فلاں جگہ استعمال کیا ہے۔معلوم ہوا کہ بائبل میں بھی وہ معارف پائے جاتے ہیں جو سورۃ فاتحہ میں پائے جاتے ہیں۔اسی طرح اس نے سورۃ فاتحہ کے سارے لفظوں کو لے کر اسی طرح حوالے دیئے تھے۔کس نے کہا تھا کہ قرآن کریم کے اثر اور اس کی قوت سے مرعوب ہو کر تم لوگ قرآن کریم کے الفاظ اور محاوروں کو استعمال نہیں کرو گے تم تو قرآن کریم سے مرعوب ہو جہاں بھی تمہیں موقعہ ملتا ہے تم قرآن کریم کا لفظ اور اس کی اصطلاح ترجمہ کرتے ہوئے اپنی کتاب میں لکھ جاتے ہو۔اصل میں وہ نہیں ہوتی۔اس لفظ کے معنی میں جو اصل میں ہے۔جہاں سے ترجمہ کیا گیا ہے اور اس لفظ کے معنی ہیں جو ترجمہ میں استعمال کیا گیا ہے۔کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔وہاں کچھ اور ہے یہاں کچھ اور ہے لیکن قرآن کریم کے رعب میں آکر انہوں نے حد کا لفظ بھی استعمال کر لیا ، رب العالمین کا بھی کرلیا۔تو بجائے اس کے کہ معارف اور حکمت کی باتیں اور نشانات کا ہم سے مطالبہ کرتے اور کہتے کہ ہم اس چیلنج کو یا دعوت فیصلہ کو قبول کرتے ہیں۔آپ ہمارے سامنے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام اور آپ کے خلفاء کی تفسیر اور اگر کچھ اور لکھنا چاہتے ہیں تو وہ لکھیں اور شائع کریں۔اور ہم اس کا جواب دیں گے پھر آپس میں فیصلہ ہو۔تو اس طرف آئے ہی نہیں کہہ دیا کہ