خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 153 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 153

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۵۳ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب چاہئے کہ جو ہم نے خمس دلائل تک پیش کرنے کی اجازت اور رخصت دی ہے۔اس سے ہماری یہ مراد نہیں ہے۔جو اس تمام مجموعہ دلائل کا بغیر کسی تفریق اور امتیاز کے نصف یا ثلث یا ربع یا شمس پیش کر دیا جائے گا بلکہ یہ شرط ہر پیک صنف کی دلائل سے متعلق ہے اور ہر صنف کے براہین میں سے نصف یا مثلث یا ربع یا مس پیش کرنا ہوگا۔“ ( براہین احمدیہ ہر چہار حصص - روحانی خزائن جلد اول صفحه ۲۴ تا ۳۱ ) حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے پانچ عنوان بھی باندھے ہیں اور دعوت فیصلہ دی ہے کہ منکر اپنی کتب میں سے ایسے دلائل پیش کرے جو ان کتب کو اپنی سلاست میں اپنے اثر میں اپنے دلائل کی پختگی میں اور اپنی قوت قدسیہ وغیرہ میں قرآن مجید جیسی ثابت کر سکیں اور پھر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے بڑی نرمی سے کام لیا ہے اور یوں معلوم ہوتا ہے کہ اپنے ملک کا چیمپئن کسی کالج کے باکسر کو یہ کہہ رہا ہو کہ تم میرے ساتھ مقابلہ کر لو اور پھر اُسے یہ خیال آئے کہ میرے ساتھ کہاں مقابلہ کر سکتا ہے تو پھر وہ رعایت دینے لگ جائے اور کہے کہ میں تمہارے پانچ مکوں کے مقابلہ میں صرف ایک مکہ لگاؤں گا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھی اللہ تعالیٰ نے اس وثوق اور صداقت کے مقام پر قائم کیا ہے کہ سارے مذاہب کے سر براہوں کے ساتھ آپ کا یہی سلوک ہو۔چنانچہ یہاں بھی دیکھ لو۔پہلے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ایک عام چیلنج دیا ہے اور پھر اس کے بعد رعایتیں دینی شروع کر دی ہیں چنانچہ فرمایا ہے اگر تم میرے پیش کردہ دلائل کی تعداد کے برابر دلائل اپنی کتب سے پیش نہ کر سکو تو تم ان دلائل کا نصف پیش کر دو اور اگر ان کا نصف بھی پیش نہیں کر سکتے تو ان کا تیسرا حصہ ہی پیش کر دو اور اگر تم تیسرا حصہ بھی پیش نہیں کر سکتے تو ان کا چوتھا حصہ پیش کر دو اور تم ان دلائل کا پچیس فیصدی بھی پیش نہیں کر سکتے تو ہم تمہیں اور رعایت دے دیتے ہیں تم ان دلائل کا بیس فیصدی ہی پیش کر دو اور اگر تم اس بات سے بھی عاجز ہو تو چلو کچھ بھی نہ کرو۔ہم تمہیں ایک اور رعایت دیتے ہی اور وہ یہ ہے کہ جو ہم نے دلائل دیئے ہیں۔ان کو نمبر وار تو ڑ دو۔اس کے لئے تم ان دلائل کو جو ہم نے دیئے ہیں۔نمبر وار توڑ دو اور غلط ثابت کر دو۔تو ان سب صورتوں میں ”بشر طیکہ تین منصف مقبولہ فریقین بالا تفاق یہ رائے ظاہر کر دیں کہ ایفاء شرط جیسا کہ چاہئے تھا ظہور میں آ گیا۔میں مشتہر ایسے مجیب کو بلا عذرے وحیلیتے