خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 144 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 144

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۴۴ ۲۸ / جنوری ۱۹۶۷ء۔اختتامی خطاب اور بھی بہت سے حوالے ہیں لیکن وقت زیادہ ہو گیا ہے اس لئے میں اب اصلی مضمون کی طرف آتا ہوں۔جیسا کہ میں نے ابھی بتایا ہے اور جیسا کہ آپ کے صحابہ میں سے متعدد صحابہ نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے دعا کے وقت کا جو نقشہ کھنچا ہے وہ بالکل اس کے مطابق ہے جس کا ذکر قرآن کریم کی اس آیت میں ہے کہ لَعَلَّكَ بَاخِعٌ نَفْسَكَ أَلَّا يَكُونُوا مُؤْمِنِينَ (الشعراء :) اور جب دعا کے وقت ایک انسان اپنے اوپر ایک موت وارد کر لیتا ہے تب وہ جس کی نگاہ میں دعا کرنے والا بندہ محبوب ہوتا ہے اپنے فرشتوں کو بھیجتا ہے اور کہتا ہے اس کو بشارتیں دو۔یہ مرنے کے لئے نہیں بھیجا گیا یہ زندہ رہنے اور زندہ رکھنے کے لئے مبعوث کیا گیا ہے۔اس کے ذریعہ سے تو ہم نے تمام دنیا میں اسلام کو غالب کرنا ہے۔جاؤ اور اس کی مدد کرو۔جاؤ اس کے لئے ان را ہوں کو کھولو جو نصرت کی راہیں ہیں۔جاؤ اور اس کے لئے مقابلہ کے میدان کو تیار کرو جس میدان میں کھڑے ہو کر وہ صلح کے ساتھ اور امن کے ساتھ اور پیار کے ساتھ اور تہذیب کے ساتھ اور شرافت کے ساتھ اپنے تمام مخالفوں کو فیصلہ کے لئے بلائے گا اور کوئی اس کے مقابلہ پر نہیں آئے گا اور اگر آئے گا تو نا کام ونامرادر ہے گا اور اس طرح دنیا کو پتہ لگے گا کہ وہ بندہ جسے دنیا نے دھتکار دیا تھا اور ذلیل سمجھا تھا وہ خدا تعالیٰ کی نگاہ میں دھتکارا ہوا نہیں بلکہ وہ اس کا محبوب ہے وہ ذلیل نہیں بلکہ خدا کا ایک عزت والا بندہ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو جیسا کہ میں نے بتایا ہے تین قسم کی نصرتیں حاصل ہوئیں بوجہ اس اسوہ حسنہ کی پیروی کے جسے محمد رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا میں پیش کیا ایڈا کو برداشت کرنے کے سلسلہ میں بھی اور دعاؤں کو انتہا تک اور اپنے کمال کے نتیجہ میں بھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام سے اللہ تعالیٰ کی نصرتوں اور تائیدات کے ایک تو وہ عام وعدے ہیں جو آپ کے الہامات میں پائے جاتے ہیں اور قیامت تک کے لئے ہیں پورے ہورہے ہیں اور وہ قیامت تک پورے ہوتے رہیں گے اور جو آنکھیں بصیرت اور بصارت رکھتی ہوں گی وہ ان کو دیکھیں گی۔وہ ان سے حظ اٹھا ئیں گی ، ان سے برکت حاصل کریں گی اور وہ ان کے نتیجہ میں اپنے رب کی رضا کو پائیں گی۔ان کے علاوہ بعض ایسے میدان نصرت کے آپ کے لئے پیدا کئے گئے جو اپنے زمانہ تک کے لئے مخصوص تھے مثلاً بعض معاملات میں آپ نے