خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 4
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۹؍ دسمبر ۱۹۶۵ء۔افتتاحی خطاب وہ خود اپنے آپ کو خدا تعالیٰ کی رحمتوں کا وارث دیکھ رہے ہیں تو انہیں بھی ضرور اپنی دعاؤں میں یا درکھیں۔پھر کشمیر میں ہمارے مسلمان بھائی اس وقت بڑے دُکھ کی زندگی گزار رہے ہیں۔ان پر انسانیت سوز مظالم ڈھائے جارہے ہیں وہ قیدیوں کی طرح ہیں اور راہ نجات ان پر بند نظر آ رہی ہے۔لیکن ہمارا خدا بڑی طاقت والا اور بڑی قدرتوں والا خدا ہے وہ اگر چاہے تو ایک آن میں ان کے حالات بدل سکتا ہے اور وہ ان کے حالات کو انشاء اللہ جلد ہی بدل دے گا آپ انہیں اپنی دعاؤں میں کبھی نہ بھولیں وہ آپ کی دعاؤں کے بہت مستحق ہیں۔پھر آپ اپنے لئے ، اپنوں کے لئے اور ہر احمدی کے لئے ہر وقت دعا کرتے رہیں اس پر آپ کا کچھ خرچ نہیں آتا لیکن اس کے نتیجہ میں آپ کو بہت کچھیل جاتا ہے۔پچھلے دنوں ہر نماز میں اپنے رب سے خاص طور پر میں یہ دعا کرتا رہا ہوں کہ اے خدا! تو ہمارے کمزوروں کو طاقت بخش اور ہمارے بیماروں کو شفا دے اور ہم سب کی پریشانیوں کو دور فرما اور ہمارے اندھیروں کو ٹور سے بدل دے اور ہم پر اپنی بڑی رحمتیں نازل کر اور ہمارے دلوں کو اپنی محبت سے بھر دے اور احمدیت کو جس مقصد کے لئے قائم کیا گیا ہے ہمیں اس مقصد میں جلد تر کامیابی عطا فرما تا کہ ہم اپنی آنکھوں سے یہ نظارہ دیکھ لیں کہ ساری دُنیا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے جھنڈے تلے جمع ہوگئی ہے۔اب میں دُعا کر ا دیتا ہوں سب دوست میرے ساتھ اس دعا میں شامل ہوں۔روزنامه الفضل ربوه ۳۰ دسمبر ۱۹۶۵ء صفحه ۲۱)