خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 122 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 122

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۲۲ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطاب توجہ دینی شروع کی اور قرآن کریم کی برکت اور اس کے فیض سے اس جماعت کے اندر زندگی کے آثار پیدا ہونا شروع ہوئے۔پس تعلیم قرآن اور وقف عارضی اور موصوں کا انتظام دراصل یہ ایک ہی نظام ہے جس کے تین پہلو ہیں جس کے تین منہ ہیں بعض ایسے نظام بھی ہوتے ہیں جن کے بہت سے وجوہ اور منہ ہوتے ہیں یہ بھی اسی قسم کا نظام ہے اور میں نے ایک خطبہ میں بھی بتایا تھا کہ ان تینوں تحریکوں کا ایک دوسرے کے ساتھ بڑا گہرا تعلق ہے۔پھر وقف عارضی کے متعلق ایک بات میں دوستوں کے سامنے یہ بھی رکھنا چاہتا ہوں کہ اس وقت تک اس ساری تحریک میں جماعت کے بیت المال پر ایک دھیلہ کا بوجھ بھی نہیں ڈالا گیا۔یہ سارا کام اور اس کام کا سارا خرچ عام بجٹ پر نہیں بلکہ جو واقفین ہیں وہ تو اپنا خرچ کرتے ہیں کرایہ بھی اور کھانا بھی اور جو خط و کتابت ہے یہاں یا اور بہت سے اخراجات جو ہوئے ہیں ان کے لئے اللہ تعالیٰ نے بعض دوسرے سامان پیدا کر دیئے۔اس سال میں نے اپنے رس کی تھی کہ میں یہ تحریکیں کر رہا ہوں اگر میں نے ان کے لئے کوئی مالی مطالبہ بھی کیا تو ممکن ہے یو کمزوروں کے دل میں کئی قسم کے شبہات پیدا ہوں یا ڈر جائیں کہ یہ نئے مالی مطالبات بھی ہوئے ہیں اس لئے اے میرے رب تو تمام قدرتوں والا اور تمام اموال کا حقیقی مالک تو ہی ہے اپنی طرف سے سامان پیدا کر دے کہ جماعت پر اس کا کوئی بوجھ نہ پڑے تو اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے یہ سامان پیدا کر دیئے ایک دھیلے کا خرچ ہماری نظارت بیت المال نے اس وقف عارضی کے کاموں کا نہیں اٹھایا اور جیسا کہ میں نے کہا ہے ۴۴۴ وفود جا چکے ہیں اور ۲۸۹ جماعتوں میں یہ وفد جا چکے ہیں بار بار جاچکے ہیں وہاں ہر واقف نے اللہ تعالیٰ کی زندہ قدرتوں کے نمونے اس وقف کے ایام میں دیکھے ہیں اور جنہوں نے مجھے لکھا ہے بعض لوگوں کی طبیعت میں حجاب ہوتا ہے اور وہ اپنے خیالات کا اچھی طرح اظہار نہیں کر سکتے لیکن پھر بھی بڑی کثرت سے واقفین نے مجھے لکھا ہے اور میری طبیعت میں بڑی خوشی پیدا ہوئی ہے کہ ان میں سے کوئی بھی عجز وانکسار کے مقام سے نہیں ہٹا ان میں سے ہر ایک نے مجھے لکھا ہے کہ ہم نہیں کہہ سکتے کہ ہمارے ذریعہ سے کسی اور کو فائدہ پہنچا ہے یا نہیں لیکن ہم یقین اور وثوق کے ساتھ یہ کہہ سکتے ہیں کہ ان ایام میں ہم نے اپنی ذات میں بڑا فائدہ اُٹھایا ہے۔ہم نے اللہ تعالیٰ کی رحمتوں کو دیکھا ہے ہم نے اللہ تعالیٰ کی قدرتوں کے زندہ