خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 119 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 119

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ١١٩ ۲۷ / جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطاب سکتے پس جماعت کے ہر گھر میں قرآن کریم کے پڑھنے پڑھانے کا کام ابد الآباد تک قیامت تک جاری رہنا چاہیئے اس لئے کہ قرآن کریم میں علوم کے وہ خزانے موجود ہیں جو کسی زمانہ میں بھی ختم نہیں ہوتے اور کوئی زمانہ ایسا نہیں آسکتا کہ کوئی شخص یہ کہے کہ اب میرے خاندان پر قرآن کریم کا مزید مطالعہ کرنے اور اس کے علوم کو مزید حاصل کرنے کی اس لئے ضرورت نہیں کہ جو کچھ اس میں تھا وہ میں نے حاصل کر لیا کیونکہ جو کچھ اس میں ہے اس کو کوئی خاندان ، بنی نوع انسان کی کوئی نسل اور سارے بنی نوع انسان آخری وقت تک حاصل نہیں کر سکتے۔یہ شاید ایک فلسفیانہ خیال ہے مگر کچھ بھی ہو ہم یہ کہہ سکتے ہیں کہ کبھی بھی قرآن کریم کے سارے کے سارے علوم کو کوئی شخص یا کوئی نسل حاصل نہیں کر سکتی۔پس اس کے ساتھ چمٹے رہنا ضروری ہے اگر ہم زندہ رہنا چاہتے ہیں۔اگر ہم قرآن کریم کو چھوڑ دیں گے، اگر ہم اپنی زندگی قرآن سے حاصل نہیں کریں گے ، اگر ہم اپنے روحانی درخت کی جڑوں کو قرآن کریم کی روحانی زمین میں مضبوطی کے ساتھ نہیں گاڑیں گے تو ہمارے ایمان کا درخت سوکھ جائے گا۔مردہ ہو جائے گا اور اس کی ٹہنیاں خشک ہو جائیں گی اور وہ نار جہنم کا ایندھن بن جائے گا۔پھر خدا تعالیٰ کو ہماری ضرورت نہیں رہے گی اور ہمیں جب اس کی ضرورت پڑے گی تو وہ ہماری طرف متوجہ نہیں ہوگا اور کہے گا میرانور جو تمہاری راہنمائی کے لئے آیا تھا اس کو تو تم اس دنیا میں چھوڑ آئے ہو۔اب اس دنیا میں تم کونسی روشنی مجھ سے مانگ رہے ہو۔تو قرآن کریم کا سیکھنا اور سکھانا بڑا ضروری ہے۔اس کے لئے ہم دو طرح کوشش کر سکتے ہیں۔ایک مستقل اُستاد اپنے گھروں میں رکھ کر اور ایک عارضی انتظام کر کے۔اب یہ بات واضح ہے کہ ہر شہر، ہر قصبہ ہر جماعت اور ہر خاندان مستقل استا در رکھ کر قرآن کریم نہیں پڑھا سکتا مختلف وجوہات کی بناء پر مثلاً ایک وجہ یہ ہے کہ اس کے پاس اتنے پیسے نہیں ہیں کہ وہ مستقل استاد کو تنخواہ دے۔لیکن ہر گھر میں قرآن کریم کا پڑھا جانا ضروری ہے اس لئے ایسے گھروں میں انتظام کرنا ہمارا کام ہے۔جماعتی لحاظ سے ہم سب کا یہ کام ہے اور اس کے لئے اللہ تعالیٰ نے میرے ذہن میں یہ ڈالا ہے کہ میں وقف عارضی کی سکیم کو اس منصو بہ کو میں جاری کروں اور اللہ تعالیٰ کے فضل سے اس وقت تک اس کے بڑے ہی اچھے نتا ئج نکل چکے ہیں اور نکل رہے ہیں۔