خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 118
خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۴:۔صدر انجمن احمدیہ ۱۱۸ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطار صدر انجمن احمدیہ کے متعلق تو میں صرف یہ کہنا چاہتا ہوں کہ گزشتہ اپریل کے شروع میں نظارت بیت المال کی طرف سے مجھے یہ رپورٹ ملی کہ اب ایک مہینہ بھی پورا نہیں رہا۔ہمارا بجٹ بہت پیچھے رہ گیا ہے کئی لاکھ روپیہ کی کمی ہے اور اگر یہ پورا نہ ہوا تو ہم مقروض ہو جائیں گے اور کا موں کو بہت نقصان پہنچے گا۔اس وقت میں نے غالباً ۱/۸ پریل کو خطبہ جمعہ میں جماعت کو اس طرف متوجہ کیا اور اللہ تعالیٰ نے یہ فضل کیا کہ ان (ہوائی جہازوں کی بجائے ) جماعت پر فرشتے نازل ہوئے اور انہوں نے جماعت کے دلوں میں تحریک کی اور تین ہفتے کے اندر اندر پانچ لاکھ روپیہ بیت المال کو وصول ہو گیا اور اس طرح نہ صرف یہ کہ ہمارا بجٹ جو تھا وہ پورا ہو گیا بلکہ کافی رقم اس سے زائد ہوگئی اور اللہ تعالیٰ نے جو بعض نامعلوم بوجھ بعد میں پڑنے والے تھے ایسے بھی آ جاتے ہیں بوجھ ان کی ادائیگی کے بھی سامان پیدا کر دئیے۔سیہ بات میں اس وقت دو وجہ سے بیان کر رہا ہوں ایک تو اس وجہ سے کہ ساری جماعت خدا تعالیٰ کی حمد بجالاتی رہے اور شکر کرتی رہے کہ اس نے محض اپنے فضل سے جماعت کو قربانی کے اس بلند معیار پر قائم کیا ہے اور قائم رکھا ہے اور دوسرے اس لئے کہ بنی نوع انسان یہ دیکھ کر خدا تعالیٰ کی حمد کریں کہ اس نے ایک ایسی جماعت پیدا کی ہے جو ان کی بہبود اور ان کے فائدہ کے تی لئے ہر قسم کی تکالیف برداشت کرنے کے لئے تیار ہے۔۵:۔وقف جدید اور دوسری تحریکات گزشتہ سال کے دوران میں نے تین تحریکیں کی تھیں ایک تحریک مجلس موصیان کے قائم کرنے کی ایک قرآن کریم سیکھنے اور سکھانے کی اور ایک وقف عارضی کی۔دراصل ان تینوں تحریکوں کا آپس میں بڑا گہرا تعلق ہے جس طرح ہمارے جسموں میں خون دوڑ رہا ہے اور خون کی اس گردش کے ساتھ ہی ہماری زندگیوں کا ابدی تعلق قائم ہے اسی طرح ہماری جماعتی زندگی کا تعلق قرآن کریم اور اس کے سیکھنے اور اس کے انوار سے منور ہونے اور اس کی روشنی سے فائدہ اٹھانے اور اس کے نشانات سے سبق حاصل کرنے اور اس کے کلام سے برکت لینے اور اس کو رائج کرنے اور اپنی زندگیاں اسی کے مطابق ڈھالنے میں ہے۔اس کے بغیر جماعتی لحاظ سے ہم زندہ نہیں رہ