خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 117 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 117

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) ۱۱۷ ۲۷ جنوری ۱۹۶۷ء۔دوسرے روز کا خطاب اطلاع ہی نہیں کہ اس قسم کے لوگ کتنی تعداد میں چاہئیں۔امرائے اضلاع اور مربیان کی یہ ذمہ داری ہے کہ وہ تمام معلومات جماعتوں تک پہنچائیں۔اگر ہم نے ایک شخص کو سارے ضلع کا امیر مقرر کیا ہے تو اس کا یہ حق نہیں کہ کہے میں سارے ضلع کا امیر نہیں بنا چاہتا میں تو صرف پانچ جماعتوں کا امیر ہوں۔ان کے متعلق مجھ سے رپورٹیں بھی لے لیں اور ان جماعتوں میں مجھ سے کام بھی کروالیں یہ تو نہیں ہوگا اگر آپ ضلع کے امیر ہیں تو ضلع کی ساری جماتوں کی ذمہ داری آپ کو اٹھانی پڑے گی اگر آپ ضلع میں مربی مقرر ہوئے ہیں تو صرف ان مقامات پر جہاں آپ کی دوستی ہو جائے یا جہاں آپ سمجھیں کہ آپ کو زیادہ سہولت ہے یا جہاں تک پہنچنے میں آپ کو زیادہ آرام ہے وہاں کے تو آپ اپنے کو مر بی سمجھیں اور جہاں پہنچنے میں آپ کو دقت ہو جہاں آپ کی دوستی نہ ہو جہاں آپ کو آرام نہ ملتا ہو ان جماعتوں کے متعلق آپ یہ سمجھنے لگ جائیں کہ ہم ان جماعتوں کے مربی نہیں ہیں تو یہ تو ٹھیک نہیں ہے اور نہ میں اس چیز کو برداشت کروں گا آپ آج سے اپنے ذہنوں کی اصلاح کر لیں کیونکہ انشاء اللہ اللہ تعالیٰ کی توفیق کے ساتھ میں نے بھی اور آپ نے بھی پہلے سے زیادہ تیزی کے ساتھ کام کرنا ہے جیسا کہ ہمارے ایک دوست نے خواب میں یہ دیکھا کہ میں آیا ہوں اور میں کہتا ہوں کہ اب چلنے کا زمانہ نہیں رہا اب ہمیں بھاگنا چاہیئے اور جو کی رہ جائے گی یا جو اونچ نیچ رہ جائے گی ( کچھ اس قسم کا فقرہ تھا ) اس کو بعد میں میں دیکھ لوں گا۔اس کے بعد کہتے ہیں میں دوڑنے لگ گیا ہوں اس کے بعد نظارہ بدلا تو دیکھا کہ جس طرح زمین میں ہل چلایا جاتا ہے اور وہ پوری طرح ہموار نہیں ہوتی۔اس میں ابھی کچھ ڈھتاں (یعنی ڈھیلے ) ابھی پڑے ہوئے ہیں خواب میں ہی انہیں یہ سمجھ آئی کہ یہ جو کہا ہے کہ نشیب و فراز جو رہ جائے گا اسے میں بعد میں دیکھ لوں گا وہ ہیں چیزیں جو یہ رہ گئی ہیں۔ہم نے بہر حال تیزی کے ساتھ آگے بڑھنا ہے انشاء اللہ تعالیٰ جب تک خدا تعالیٰ مجھے ندگی دیتا ہے میں آپ کو ان باتوں میں اور ان ذمہ داریوں کے نبھانے میں سست نہیں ہونے دوں گا چاہے آپ مجھ سے خوش ہوں یا مجھ سے ناراض ہوں۔میں اپنے مولیٰ کو اپنے سے ناراض نہیں ہونے دینا چاہتا۔