خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء)

by Hazrat Mirza Nasir Ahmad

Page 90 of 773

خطاباتِ ناصر (جلد اوّل۔ 1965ء تا 1973ء) — Page 90

خطابات جلسہ سالانہ (۱۹۶۵ء تا ۱۹۷۳ء) خدا کرے کہ توحید خالص کے قیام کا تم ذریعہ بنو۔۲۶ جنوری ۱۹۶۷ء۔افتتاحی خطاب خدا کرے کہ عشق محمد میں تم ہمیشہ مسرور اور مست رہو۔خدا کرے کہ نور محمد ی کی شمع تمہارے ہاتھ سے ہر دل میں فروزاں ہو۔خدا کرے کہ مسیح محمدی علیہ السلام کی سب دُعاؤں کے تم وارث بنو۔خدا کرے کہ رُوحانی خزائن سے اپنی جھولیاں بھر کے تم اس جلسہ سے واپس کو ٹو۔میرا خدا سفر و حضر میں تمہارا حافظ و ناصر ہو۔خدا کرے کہ تم اپنے اہل و عیال اور اپنے دوستوں کو ہر طرح خیریت سے پاؤ۔تم اور وہ ہمیشہ ہی خیریت سے رہیں۔اور خدا کرے کہ اپنے رب کا یہ نا چیز، حقیر اور عاجز بندہ بھی محض اُس کے فضل اور احسان سے اُن سب دُعاؤں کا وارث ہو جو اس عاجز نے اس مجمع میں تمہیں دی ہیں۔آؤ اب عاجزی کے ساتھ اُس کے در پر چھکیں اور اُسی سے اُس کی مغفرت اور اس کی رحمت کے طالب ہوں۔(روز نامه الفضل ربوه یکم فروری ۱۹۶۷ء صفحه۲ ۳۰)