مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 98 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 98

تم اس کو مت اُتارنا یہاں تک کہ تم مجھ سے آملو! اسی بنا پر آپ رضی اللہ عنہ نے، جس روز آپ رضی اللہ عنہ محصور ہوئے تھے یہ فرمایا تھا کہ اس کے بارے میں مجھ سے حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے عہد لیا تھا چنانچہ اس پر میں قائم ہوں اور صبر کر رہا ہوں۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ( تاریخ الخلفاء۔صفحہ 339۔ترجمہ:۔علامہ شمس بریلوی) ”حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں جب فسادیوں نے مدینہ پر قبضہ کر لیا۔چنانچہ یہ لوگ مسلسل ہیں دن تک صرف زبانی طور پر کوشش کرتے رہے کہ کسی طرح حضرت عثمان رضی اللہ عنہ خلافت سے دست بردار ہو جائیں مگر حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے اس امر سے صاف انکار کر دیا اور فرمایا کہ جو قمیص مجھے اللہ تعالیٰ نے پہنائی ہے میں اسے اتار نہیں سکتا اور نہ امت محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو بے پناہ چھوڑ سکتا ہوں کہ جس کا جی چاہے دوسرے پر ظلم کرے۔(طبری جلد 8 صفحہ 2990 مطبوعہ بیروت) اور ان لوگوں کو بھی سمجھاتے رہے کہ اس فساد سے باز آجاویں اور فرماتے رہے کہ آج یہ لوگ فساد کرتے ہیں اور میری زندگی سے بیزار ہیں مگر جب میں نہ رہوں گا تو خواہش کریں گے کہ کاش! عثمان (رضی اللہ عنہ) کی عمر کا ایک ایک دن سے بدل جاتا اور وہ ہم سے جلدی رخصت نہ ہوتا کیونکہ میرے بعد سخت خون ریزی ہوگی اور حقوق کا اتلاف ہو گا اور انتظام کچھ کا کچھ بدل جائے گا۔“ (4) حضرت علی رضی اللہ عنہ اور حفاظت منصب خلافت: (انوار العلوم جلد نمبر 4۔صفحہ 253) منصب خلافت کی حفاظت کیلئے حضرت علی رضی اللہ عنہ کی خدمات نہایت اعلیٰ اور شاندار ہیں۔چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ جب خلیفۃ الرسول منتخب ہوئے تو حضرت امیر معاویہ رضی اللہ عنہ نے بیعت کرنے سے انکار کر دیا جس پر حضرت علی رضی اللہ عنہ نے امیر معاویہ رضی اللہ عنہ کو ایک خط لکھا فرمایا: " مجھ سے انہی لوگوں نے بیعت کی ہے۔جنہوں نے ابو بکر رضی اللہ عنہ، عمر رضی اللہ عنہ، عثمان رضی اللہ عنہ سے بیعت کی تھی۔لہذا نہ تو حاضر کے لیے حق باقی رہ گیا ہے کہ بیعت میں اختیار سے کام لے اور نہ غیر حاضر کو حق ہے کہ بیعت سے روگردانی کرے۔شوری تو صرف مہاجرین و انصار کے لیے ہے اگر انہوں نے کسی آدمی کے انتخاب پر اتفاق کر لیا تو اسے امام قرار دے دیا تو یہ اللہ کی اور پوری اُمت کی رضا مندی کے لیے کافی ہے اگر امت کے اس اتفاق سے کوئی شخص اعتراض یا بدعت کی بنا پر خروج کرتا ہے تو مسلمان اسے حق کی طرف لوٹا دیں گے جس سے وہ خارج ہوا ہے۔انکار کرے گا تو اس سے جنگ کی جائے گی کیونکہ اس نے مومنوں کی راہ سے کٹ کر الگ راہ اختیار کی ہے اور خدا اس کو اس کی گمراہی کے حوالے کر دے گا اور اے معاویہ! میں یہ قسم کہتا ہوں کہ اگر تو نفس سے ہٹ کر عقل سے کام لے گا تو مجھے عثمان کے خون سے بالکل بری الذمہ پائے گا کہ میرا اس خون سے دور کا بھی لگاؤ نہیں ، یہ الگ بات ہے کہ تو اپنے مطلب کے تہمتیں تراشے۔خیر جو کرنا ہے کرتا رہ!“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: (نہج البلاغہ صفحہ 724) ”حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے دور میں جب فتنہ پڑا تو اہل مصر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس آئے اور 98