مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 99
حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے خلاف بولنے لگے، آپ رضی اللہ عنہ نے سختی سے ان کو دھتکار دیا اس واقعہ کو یوں بیان کیا جاتا ہے: اہل مصر حضرت علی رضی اللہ عنہ کے پاس گئے وہ اس وقت مدینہ سے باہر ایک حصہ لشکر کی کمان کر رہے تھے اور ان کا سر کچلنے پر آمادہ کھڑے تھے ان لوگوں نے آپ رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ کر عرض کیا کہ حضرت عثمان رضی اللہ عنہ بدانتظامی کے باعث اب خلافت کے قابل نہیں۔ہم ان کو علیحدہ کرنے کے لیے آئے ہیں اور امید کرتے ہیں کہ آپ رضی اللہ عنہ ان کے بعد اس عہدہ کو قبول کریں گے۔انہوں ( حضرت علی رضی اللہ عنہ) نے ان کی بات سن کر اس غیرت دینی سے کام لے کر جو آپ رضی اللہ عنہ کے رتبہ کے آدمی کا حق تھا ان لوگوں کو دھتکار دیا اور بہت سختی سے پیش آئے اور فرمایا کہ: سب نیک لوگ ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیشگوئی کے طور پر ذوالمرہ اور ذو خشب (جہاں ان لوگوں کا ڈیرہ تھا) ڈیرہ لگانے والے لشکروں کا ذکر فرما کر ان پر لعنت فرمائی تھی۔(البَدَايَةُ وَالنَّهَايَةُ ج 7 صفحہ 174 مطبوعہ بیروت 1966ء) پس جانتے خد اتمہارا برا کرے تم واپس چلے جاؤ۔اس پر ان لوگوں نے کہا کہ بہت اچھا ہم واپس چلے جاویں گے اور یہ گہ کر واپس چلے گئے۔66 خلفائے راشدین کے کار ہائے نمایاں: پر انوارا لعلوم جلد نمبر 4 صفحہ 237) ذیل میں ہم مختصر طور پر نمونہ خلفائے راشدین کے کار ہائے نمایاں درج کئے جاتے ہیں تاکہ معلوم ہو کہ اللہ تعالیٰ نے ہر خلافت کے انتخاب کے وقت اُس وقت کے موزوں ترین انسان کے بارے میں مؤمنین کے دلوں میں ڈالا اور مؤمنین نے بلا تأمل اس کو منتخب کر لیا اور بعد کے حالات نے یہ ثابت کر دیا کہ اس خلیفہ کے انتخاب میں ہی اللہ تعالیٰ کی رضا اور تائید شامل ہے۔1 بطور خلیفہ راشد اوّل حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کار ہائے نمایاں: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے کارنامے بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں: حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کے خلیفۃ الرسول منتخب ہونے کے بعد سب سے اہم کام احکام شریعت کی پابندی اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کے جاری کردہ احکامات پر عمل درآمد تھا۔چنانچہ اس سلسلہ میں حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی مساعی قابل ستائش ہیں۔”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جب بعض قبائل عرب نے زکوۃ دینے سے انکا ر کر دیا تو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ ان کے خلاف جنگ کرنے کے لیے تیا ر ہو گئے اس وقت حالت ایسی نازک تھی کہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ جیسے انسان نے مشورہ دیا کہ ان لوگوں سے نرمی کرنی چاہئے مگر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جواب دیا ابو قحانہ کے بیٹے کی کیا طاقت ہے کہ وہ اس حکم کو منسوخ کر دے۔جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اونٹ کا گھٹنا باندھنے کی ایک رسی بھی زکوۃ میں دیا کرتے تھے تو میں رسی بھی ان سے لے کر رہوں گا اور اس وقت تک دم نہیں لوں گا جب تک وہ زکوۃ ادا نہیں کرتے۔(بخاری کتاب الزکوۃ) اگر تم اس معاملہ میں میرا ساتھ نہیں دے سکتے تو بے شک نہ دو میں اکیلا ہی ان سے مقابلہ کروں گا۔“ ( تفسیر کبیر جلد 8 - صفحہ 108 تا109) 99