مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 543
چیز کی قربانی کے لئے تیار رہو گے اگر عہد سے آپ کی یہی مراد ہے تو یہ عہد مجھے نہیں چاہئے۔خلافت احمدیہ کو یہ عہد نہیں چاہئے۔کیونکہ اس قسم کی حفاظت نقصان پہنچانے والی ہے فائدہ پہنچانے والی نہیں ہے لیکن یہ صرف ایک خلافت کا معاملہ نہیں ہے سارے نظام اسلام کا معاملہ ہے تمام اسلامی قدروں کو معاملہ ہے۔ہم تو دور کے مسافر ہیں ایک صدی کا ہمارا سفر نہیں ہے سینکڑوں سال تک اور خدا کرے ہزاروں سال تک ہم اسلام کی امانت کو حفاظت کے ساتھ نسلاً بعد نسل دوسروں تک منتقل کرتے چلے جائیں ان اہم مقاصد کے لئے اپنے سینوں کو پیش کرتے ہیں جن میں قرآن کریم نے آپ کو کھول کر بیان فرمایا ہے کہ ان اصولوں سے ہٹو گے تو موت کے سوا تمہارا کوئی مقدر نہیں ہے۔“ (ضمیمہ ماہنامہ انصار اللہ دسمبر 1987ء) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: تمہارا فرض ہے کہ اگر تم سمجھتے ہو کہ خلیفہ وقت واقعتاً معصوم ہے تو جن باتوں میں تم سمجھتے ہو کہ وہ آگئے ہیں تم خلیفہ وقت کو بتاؤ کہ تم ان باتوں میں نہ آؤ اس کو لکھ کر بھیجو اور تمہارے لئے دو ہی رستے ہیں یا تو پھر اس کے عدل پر حملہ کرو یہ نہ کہو کہ ناظر امور عامہ بددیانت ہے پھر جرات کے ساتھ تقویٰ کے ساتھ یہ فیصلہ کرو جو بھی تمہیں تقویٰ نصیب ہو اس کے مطابق فیصلہ کرو کہ خلیفہ وقت جھوٹا ہے، خلیفہ وقت بدیانت ہے اور اس کو چھوڑ دو۔اگر چھوڑ دو تب بھی رخنہ پیدا نہیں ہو گا لیکن جب تم تصادم کی راہ اختیار کرو گے تو تفاوت پیدا ہو گا اور تفاوت کے نتیجہ میں لازماً فتور ہو گا یہ ہم برداشت نہیں کر سکتے۔اگر لوگ ہمیشہ یہ مسلک اختیار کرتے تو کبھی کوئی فتنہ کبھی سر ہی نہیں اٹھا سکتا تھا۔آج بھی پاکستان میں بھی اور باہر بھی جہاں بھی مفتی پیدا ہوتے ہیں وہ پہلا حملہ خلیفہ وقت پر نہیں کیا کرتے۔وہ کہتے ہیں کہ فلاں شخص نے ہماری دشمنی میں خلیفہ وقت تک یہ بات پہنچائی۔فلاں شخص نے فلاں آدمی سے پیسے کھا لئے اس کی دعوتیں اڑائیں اور پھر خلیفہ وقت سے یہ بات کہی۔ایک مخرج ہے اس وقت وہ لوگوں کے پاس پہنچتا ہے اور بڑی چاپلوسی سے کہتا ہے کہ میں تو خلیفہ وقت کا عاشق ہوں، خلیفہ وقت تو بہت ہی بلند مقام رکھتے ہیں۔میں تو معافیوں کی عاجزانہ درخواستیں بھی کر رہا ہوں لیکن معافی نہیں ملتی۔ناظر اُمور عامہ ایسا ذلیل آدمی ہے کہ وہ راشی ہے، وہ فریق ثانی سے دعوتیں اُڑا چکا ہے، فریق ثانی سے پیسے کھا چکا ہے حالانکہ جو مخرج ہے اس کے متعلق میں جانتا ہوں کہ اس کو لوگوں کے پیسے چڑھانے اور دعوتیں کھلانے کی عادت ہے۔میں نے آغاز خلافت ہی میں عہدیداروں کو اس کے متعلق متنبہ کر دیا تھا کہ آپ نے اس کی کوئی دعوت قبول نہیں کرنی۔اب وہ کیونکہ خود اس مرض کا شکار ہے اس لئے دوسروں کے متعلق یا ناظر امور عامہ کے متعلق باتیں کرتا ہے اور ظلم کی بات یہ ہے کہ سننے والے سن لیتے ہیں اور یہ کہتے ہیں کہ ہاں خلیفہ وقت نے ناظر اُمور عامہ کی بات سن لی اس لئے اس بے چارے پر ظلم ہو رہا ہے حالانکہ اس سے اگلا نتیجہ نہیں نکالتے جو خلیفہ اتنا بے وقوف اور احمق ہو کہ اس کو معاملہ فہمی ہو ہی نہیں۔جس طرف سے بات سنی اس کو فوراً قبول کر لیا وہ اس لائق کہاں کہ تم اس کی بیعت میں رہو؟ اس لئے تمہارے تقویٰ کا تقاضا یہ ہے کہ اگر تم متقی ہو تو اس کی بیعت سے الگ ہو جاؤ لیکن بیعت پر قائم رہتے ہوئے تمہیں تصادم کی اجازت نہیں دی جا سکتی یہ وہ بات ہے جس کے متعلق قرآن کریم کی ایک آیت ہمیں ہمیشہ کیلئے متنبہ کر چکی ہے کہ خبردار تفاوت کی راہ اختیار نہ کرنا۔تفاوت کے نام ہے دو موتوں کے ٹکرانے کا، دو ایسی چیزوں کے ٹکرانے کا جو دونوں اپنے منصب سے ہٹ چکی ہوں اس لئے اگر ایک کو اپنا منصب نہ چھوڑتے ہوئے دیکھو بھی تو تم اس رو میں بہہ کر اپنا منصب نہ چھوڑ دینا۔“ 543