مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 533
( ابو داؤد كتاب السنة باب في لزوم السنة) ترجمه: عبدا لرحمن بن عمر و سلمی اور حجر بن حجر بیان کرتے ہیں کہ وہ عرباض بن ساریہ کے پاس آئے یہ وہی عرباض ہیں جن کے بارہ میں یہ آیت نازل ہوئی کہ نہ ان لوگوں پر کوئی الزام ہے جو تیرے پاس سواری حاصل کرنے کے لئے آتے ہیں (تا کہ غزوہ میں شریک ہوسکیں) تو تو ان کو جواب دیتا ہے کہ میرے پاس کوئی سواری نہیں ہے وہ یہ جواب سن کر رنج وغم میں ڈوبے واپس جاتے ہیں ان کی آنکھیں آنسو بہا رہی ہوتی ہیں کہ افسوس ان کے پاس خرچ کرنے کے لئے کچھ نہیں۔سورۃ التوبہ: 93 ہم نے ان کی خدمت میں سلام عرض کیا اور کہا کہ ہم آپ سے ملنے اور کچھ استفادہ کرنے آئے ہیں۔اس پر عرباض نے فرمایا: ایک دن حضور صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں صبح کی نماز پڑھائی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے بہت مؤثر اور فصیح و بلیغ انداز میں ہمیں وعظ فرمایا جس سے لوگوں کی آنکھوں سے آنسو بہہ پڑے اور دل ڈر گئے۔حاضرین میں سے ایک نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول (صلی اللہ علیہ وسلم)! یہ تو الوداعی وعظ لگتا ہے۔آپ کی نصیحت کیا ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: میری وصیت یہ ہے کہ اللہ کا تقویٰ اختیار کرو، بات سنو اور اطاعت کرو خواہ تمہارا امیر ایک حبشی غلام ہو کیونکہ ایسا زمانہ آنے والا ہے کہ اگر تم میں سے کوئی میرے بعد زندہ رہا تو بہت بڑے اختلافات دیکھے گا پس تم ان نازک حالات میں میری اور میرے ہدایت یافتہ خلفائے راشدین کی سنت کی پیروی کرنا اور اسے پکڑ لینا، پچھلے بڑے دانتوں سے مضبوط گرفت میں کر لینا۔تمہیں دین میں نئی باتوں کی ایجاد سے بچنا ہوگا کیونکہ ہر نئی بات جو دین کے نام سے جاری ہو بدعت ہے اور بدعت نری گمراہی ہے۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مسند خلات پر متمکن ہوتے ہی پہلے خطبہ میں اطاعت کے بارے میں فرمایا: اللہ پاک صرف ان اعمال کو قبول فرماتے ہیں جو صرف اس کے لیے کئے جائیں۔لہذہ تم صرف اللہ کے لئے عمل کرو اور سمجھ لو کہ جو کام تم محض اللہ کے لئے کرو گے وہ اس کی حقیقی اطاعت ہوگی۔وہ حقیقی کامیابی کی طرف قدم ہو گا اور وہی اصلی سامان ہو گا جو اس دنیائے فانی میں تم دائمی آخرت کیلئے مہیا کرو گے اور تمہاری ضرورت کے وقت کام آئے گا۔اے اللہ کے بندو! تم میں سے جو مر گئے ہیں ان سے عبرت حاصل کرو اور جو تم سے پہلے تھے ان پر غور کرو کہ وہ کہاں تھے؟ کہاں ہیں وہ جابر فرمانروا؟ کہاں ہیں وہ سورما جن کی شجاعت اور فتح مندی کی داستانیں مشہور ہیں؟ جن سے عالم میں ایک تہلکہ مچ گیا تھا۔آج وہ خاک ہو چکے اور ان کے متعلق صرف باتیں ہی باتیں رہ چکی ہیں اور ظاہر ہے کہ رہتی دنیا میں بروں کی برائیوں ہی کا چرچا ہوتا ہے بادشاہ کہاں گئے جنہوں نے دھرتی کے سینے کو چاک کیا اور اس کو خوب آباد کیا؟ آہ! وہ چل بسے اور آج کوئی ان کا نام تک نہیں لیتا۔یوں گویا کہ وہ بھی تھے ہی نہیں۔اللہ تعالیٰ نے ان کی بداعمالیوں کی سزا میں ان کو برباد کر دیا اور ان کی تمام لذتیں ختم ہو گئیں۔وہ چل بسے، ان کی برائیاں باقی رہ گئیں اور ان کی دنیا دوسروں کے قبضے میں چلی گئی۔اب ہم ان کے جانشیں ہوئے ہیں اگر ہم نے ان کی حالت سے عبرت حاصل کی تو ہم نجات حاصل کر لیں گے اور اگر ہم ان کی دنیاوی عیش و عشرت کی زندگی سے دھوکے میں آگئے تو ہمارا بھی وہی انجام ہو گا جو ان کا ہوا۔وہ حسین چہرے والے آج کہاں ہیں جو اپنی جوانی پر فخر کرتے تھے؟ وہ سب مٹی میں مل کر مٹی ہو چکے اور صرف ان کی بد اعمالیوں کی حسرت ان کے پاس رہ گئی ہے۔وہ ا ہے۔وہ لوگ کہاں گئے جنہوں نے شہر بسائے اور ان کے گرد فصیلیں بنائیں اور دنیا کے عجائبات ان شہروں میں جمع کئے وہ ان وہ 533