مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 520
تقویٰ کے معیار بجائے گرنے کے نہ صرف قائم رہیں بلکہ بڑھیں اور اپنے اندر روحانی تبدیلیاں پیدا کرنے والے بھی پیدا ہو تے رہیں اور قربانیاں پیدا کرنے والے بھی پیدا ہوتے رہیں یعنی حقوق اللہ اور حقوق العباد ادا کرنے والے پیدا ہوتے رہیں، اللہ تعالیٰ کے شکر گزار بندے پیدا ہوتے رہیں۔جب اس طرح کے معیار قائم ہوں گے تو انشاء اللہ تعالی خلافت حقہ بھی قائم رہے گی اور جماعتی ضروریات بھی پوری ہوتی رہیں گی کیونکہ متقیوں کی جماعت کے ساتھ ہی خلافت کا ایک بہت بڑا تعلق ہے۔اللہ تعالیٰ جماعت کو اس کی توفیق دے اور ہمیشہ خلافت کی نعمت کا شکر ادا کرنے والے پیدا ہوتے رہیں اور کوئی احمدی بھی ناشکری کرنے والا نہ ہو۔کبھی دنیا داری میں اتنے محو نہ ہوجائیں کہ دین کو بھلا دیں۔“ از خطبه جمعه فرموده 6 اگست 2004 - الفضل انٹرنیشنل 20 تا 26 اگست 2004 ء حضرت امیر المؤمنین خلیفہ المسح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز نے جلسہ سالانہ یو۔کے 2004 ء کی اختتامی تقریر میں حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کے مختلف ارشادات کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا کہ: اللہ تعالیٰ کا قرب پانے اور انجام بخیر حاصل کرنے کے لئے ایک اور ذریعہ بھی ہے جو تمہیں نیکیوں پر قائم رہنے اور اپنے اندر پاک تبدیلیاں پیدا کرنے میں مددگار ہو گا بلکہ انتہائی اہم نسخہ ہے۔اس سے اللہ تعالٰی کے دین کی اشاعت کے سامان بھی پیدا ہو رہے ہوں گے اور حقوق العباد ادا کرنے کے سامان بھی پیدا ہو ر۔رہے ہوں گے اور وہ ہے نظام وصیت۔اس کی اہمیت کے بارے میں آپ علیہ السلام فرماتے ہیں کہ: " تمہیں خوشخبری ہو کہ قرب پانے کا میدان خالی ہے، ہر ایک قوم دنیا سے پیار کر رہی ہے اور وہ بات جس سے خدا راضی ہو اس کی طرف دنیا کو توجہ نہیں، وہ لوگ جو پورے زور سے اس دروازہ میں داخل ہونا چاھتے ہیں ان کے لئے موقع ہے کہ اپنے جوہر دکھلائیں اور خدا سے خاص انعام پاویں‘ (رسالہ الومیت۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 308 ) پس آپ نے وصیت کا نظام جاری کرتے ہوئے یہ خوشخبری بھی دی ہے کہ یہ نظام خدا تعالیٰ کا قرب پانے کا ایک ذریعہ ہے اور اس لئے اگر تم چاہتے ہو کہ تمہیں خدا تعالیٰ سے خاص انعام ملے تو اس نظام میں شامل ہو جاؤ اور اس دروازے میں داخل ہو جاؤ۔“ الفضل انٹرنیشنل 29 جولائی تا 11 اگست 2005 ) حضرت خلیفة المسیح الخامس ایدہ اللہ تعالیٰ نے مزید فرمایا: ”جب وصیت کا نظام شروع کیا اس وقت 1905 ء میں آپ (حضرت مسیح موعود علیہ السلام) نے یہ رسالہ لکھا تھا اور اس کو لکھنے کی وجہ یہ فرمائی تھی کہ خدا تعالیٰ نے مجھے بتایا ہے کہ میرا وقت قریب ہے اور اب ایک تو نظام خلافت کا سلسلہ شروع ہو گا جو میرے بعد میرے کاموں کی تکمیل کرے گا اور دوسرا اس سلسلہ کو چلانے کے لئے ایسے مخلصین جماعت میں پیدا ہوتے رہیں گے جن کا پہلے ذکر آچکا ہے جو روحانیت کے بھی اعلیٰ معیار تک پہنچنے والے ہوں گے اور مالی قربانیوں کو بھی اعلیٰ معیار تک پہنچانے والے ہوں گے اور ایسے مخلصین جو ہوں گے ان کی انفرادیت کی وجہ سے اللہ تعالیٰ نے انہیں بہشتی قرار دیا ہے اور اس وجہ سے ان کا ایک علیحدہ قبرستان بھی ہو گا جہاں ان کی تدفین ہوگی اس لئے بہشتی مقبرہ کا قیام عمل میں آیا تھا۔۔۔۔۔۔۔پس یہ وہ نظام ہے جو اس زمانے میں خدا تعالیٰ کا قرب پانے کی یقین دہانی کرانے والا نظام ہے، یہ وہ نظام ہے جو دین کی خاطر قربانیاں دینے والی جماعت کا نظام ہے اور یہ وہ جماعت ہے جو دنیا میں دھی انسانیت کی خدمت کرتی ہے۔پس ہر احمدی ان باتوں کے سننے کے بعد غور کرے اور دیکھے کہ کس قدر فکر سے اور کوشش سے اس نظام میں شامل ہونا چاہئے۔“ 66 520