مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 503
503 سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: میں جماعت کے علم میں ایک بات لانی چاہتا ہوں کہ امسال لجنہ اماء اللہ کی نمائندگی کا طریق کار تبدیل کیا گیا ہے اس سے پہلے یہ ہوتا تھا کہ مجلس لجنہ اماء اللہ کا ایک نمائندہ مردوں میں سے ان کی آواز یہاں تک پہنچاتا تھا اور یہ نمائندہ رابطہ رکھنے کے لئے اگر چہ دشواری محسوس کرتا تھا مگر وہاں سے مختصر چٹیں آجاتی تھیں اور وہ چٹیں لے کر جو کچھ بھی سمجھ سکتا تھا ان سے وہ اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کی کوشش کرتا تھا۔اس سلسلہ میں جو میں نے تحقیق کی ہے تو اس سے یہ معلوم ہوا کہ 1929ء میں پہلی دفعہ یہ مسئلہ جماعت کے سامنے آیا۔1929 ء کی مجلس شوری میں حضرت خلیفہ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے یہ معاملہ جماعت کے سامنے رکھا اور اس موضوع پر بہت لمبی بحثیں ہوئیں۔جماعت کے چوٹی کے علما دوحصوں میں منقسم تھے اور ایک معمولی اکثریت سے سب کمیٹی نے اس تجویز کے حق میں رائے دی کہ لجنہ اماء اللہ یا احمدی مستورات کو مجلس شوری میں خود بولنے کا حق ملنا چاہیے۔اس کمیٹی کے انیس (19) ممبر تھے۔نو (9)، نو (9) ، ممبر (Member) برابر بٹ گئے اور پریذیڈنٹ (President) نے اپنا ووٹ تجویز کے حق میں دیا اس طرح وہ منظوری کے لئے پیش ہوا اور وہاں بھی ایسی زبردست بحثیں ہوئیں کہ گویا وہ جماعت کا ماشاء اللہ ایک علمی کارنامہ ہے۔دونوں طرف کے چوٹی کے علما (جن میں بہت سے صحابہ بھی شامل تھے ) نے ایسے ایسے باریک نکات نکالے کہ عقل دنگ رہ جاتی ہے اور میں سمجھتا ہوں کہ دنیا کی کسی بھی مجلس کے لئے وہ بحث ایک قابل فخر بحث ہونی چاہیے۔کوئی باریک سے باریک پہلو ایسا نہیں چھوڑا گیا جس پر احباب کی نظر نہ گئی ہو اور دونوں طرف سے یہ رائے پیش کی جارہی تھی (الا ما شاء اللہ) کہ نص صریح سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ جماعت کی مجلس مشاورت میں عورتوں کو بولنے کا حق نہیں ملنا چاہئے اور نص صریح سے یہ بات ثابت ہوتی ہے کہ ملنا چاہئے۔اب یہ بھی ایک صورت حال سامنے آتی ہے۔اس کے جو بعض دلچسپ پہلو ہیں وہ میں آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔ایک تو یہ کہ یہ واقعہ جماعت احمدیہ میں خلافت کی اہمیت کے احساس کا مظہر ہے میں نے یہ کہا کہ احساس ہے اس طرح کہنے سے میرا یہ مطلب نہیں کہ میں آپ کو احساس دلا رہا ہوں کہ بلکہ اطمینان دلا رہا ہوں کہ اللہ تعالیٰ نے آپ کے دل میں خلافت سے متعلق جو طمانیت عطا فرمائی ہے اس کے اظہار کا یہ ایک موقع تھا۔حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے جب اپنی رائے پیش کی تو دونوں طرف کے علما نے سو فیصدی حضور کے سامنے اپنی رائے چھوڑ کر سر تسلیم خم کر دیا، اور جماعت نے مکمل تعاون اور اطاعت کا ایک نمونہ دکھایا۔ایسا موقع اگر خلافت کے بغیر پیش آتا تو اس وقت دو فرقے پیدا ہو چکے ہوتے۔ایک فرقہ کے نزدیک قرآن اور سنت کی رو سے عورتوں کا مردوں کی مجلس میں خطاب کرنا حرام قرار دیا جاتا اور دوسرے کے نزدیک حلال اور ضروری۔پس یہ ایک تاریخی واقعہ ہے اور اس پر غور کرنے سے ہمیں اختلافات کے اسباب سمجھ آتے ہیں۔دراصل خلافت کی برکت کے نہ ہونے کے نتیجہ میں مذہبی قوموں میں اختلاف پیدا ہوتے ہیں۔اگر خلافت حقہ موجود ہو تو کسی اختلاف کا سوال ہی پیدا نہیں ہو تا دونوں فریق اپنی اپنی رائے دیانتداری سے پیش کرتے ہیں اور جب خلیفہ وقت اس پر محاکمہ کرتا ہے اور فیصلہ صادر کر دیتا ہے تو پھر وہ ایک ہی قوم کی رائے بن جاتی ہے۔قومی وحدت کی حفاظت کے لئے ایسا کامل نظام دنیا کے پردہ پر آپ کو کہیں نظر نہیں آئے گا۔اسے پڑھتے ہوئے ایک تو میرا دل حمد سے بھر گیا کہ اللہ تعالیٰ نے کیسا پیارا اور پاکیزہ نظام اپنی توحید کے اظہار اور ملت میں وحدت پیدا کرنے کی خاطر ہمیں بخشا ہے۔اسی لئے قرآن کریم نے آیت استخلاف سے یہ نتیجہ نکالا : يَعْبُدُونَنِي لَا