مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 477
1935ء میں احرار جماعت احمدیہ پر پر مسلسل ناکام حملے کر رہے تھے اور وہ یہ مسلسل شور کر رہے تھے کہ احمدیوں کے دلوں میں حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت و عزت نہیں ہے اور اسی طرح احمدی مکہ ومدینہ اور دیگر مقامات مقدسہ کی بھی تعظیم نہیں کرتے۔حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے مجلس احرار کو ہر دو امور پر مباہلہ کے چیلنج دیئے: (1) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی طرف سے احرار کو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی عزت و تکریم پر مباہلہ کا چیلنج حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے مباہلہ کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا: ”دوسرا طریق یہ ہے کہ ان مخالفین میں سے وہ علما جنہوں نے سلسلہ احمدیہ کی کتب کا مطالعہ کیا ہوا ہو پانچ سو یا ہزار میدان میں نکلیں ہم میں سے بھی پانچ سو یا ہزار میدان میں نکل آئیں گے۔دونوں مباہلہ کریں اور دعا کریں کہ وہ فریق جو حق پر نہیں اللہ تعالیٰ اسے اپنے عذاب سے ہلاک کرے۔ہم دعا کریں گے کہ اے خدا ! تو جو ہمارے سینوں کے رازوں سے واقف ہے اگر تو جانتا ہے کہ ہمارے دلوں میں واقعی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی عظمت و محبت نہیں اور ہم آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو سارے انبیاء سے افضل و برتر یقین نہیں کرتے اور نہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی غلامی میں نجات سمجھتے ہیں اور حضرت مسیح موعود علیہ السلام کو آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا ایک خادم اور غلام نہیں جانتے بلکہ درجہ میں آپ علیہ السلام کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بلند سمجھتے ہیں تو اے خدا ہمیں اور ہمارے بیوی بچوں کو اس جہاں میں ذلیل و رسوا کر اور ہمیں اپنے عذاب سے ہلاک کر۔اس کے مقابلے میں وہ دعا کریں کہ اے خدا! ہم کامل یقین رکھتے ہیں کہ احمدی رسول کریم صلی اللہ علیہ ہتک کرتے ، آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تحقیر و تذلیل پر خوش ہوتے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے درجہ کو گرانے اور کم کرنے کی ہر وقت کوشش کرتے رہتے ہیں۔اے خدا اگر ہمارا یہ یقین غلط یہ یقین غلط ہے تو تو اس دنیا میں ہمیں اور ہمارے بیوی بچوں کو ذلیل و رسوا کر اور اپنے عذاب سے ہمیں ہلاک کر “ (سوانح فضل عمر جلد نمبر 3 صفحہ 289-290) (2) مکہ و مدینہ اور دیگر مقامات مقدسہ کی حرمت وعظمت: مکہ و مدینہ اور دیگر مقامات مقدسہ کی حرمت و عظمت کے متعلق الزامات کا فیصلہ کرنے کے لیے حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے مجلس احرار کو مباہلہ کا چیلنج دیتے ہوئے فرمایا: اس کے لئے بھی وہی تجویز پیش کرتا ہوں جو پہلے امر کے متعلق پیش کر چکا ہوں کہ اس قسم کا اعتراض کرنے والے آئیں اور ہم سے مباہلہ کرلیں ہم کہیں گے کہ اے خدا! مکہ و مدینہ کی عظمت ہمارے دلوں میں قادیان سے بھی زیادہ ہے۔ہم ان مقامات کو مقدس سمجھتے اور ان کی حفاظت کے لیے اپنی ہر چیز قربان کرنے کے لیے تیار ہیں لیکن اے خدا اگر ہم دل سے یہ نہ کہتے ہوں بلکہ جھوٹ اور منافقت سے کام لے کر کہتے ہوں اور ہمارا اصل عقیدہ یہ ہو کہ مکہ اور مدینہ کی کوئی عزت نہیں یا قادیان سے کم ہے تو تو ہم پر اور ہمارے بیوی بچوں پر عذاب نازل کر اس کے مقابلہ میں احرار اٹھیں اور وہ یہ قسم کھا کر کہیں کہ ہمیں یقین ہے کہ احمدی مکہ معظمہ اور مدینہ کے دشمن ہیں اور ان مقامات کا گرنا اور ان کی اینٹ سے اینٹ بجائی جانا احمدیوں کو پسند ہے۔پس اے 477