مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 423 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 423

جماعت ہو سو وہ عمل نیک دکھلاؤ جو اپنے کمال میں انتہائی درجہ پر ہو۔دیکھو! میں بہت خوشی سے خبر دیتا ہوں کہ تمہارا خدا درحقیقت موجود ہے۔اگر چہ سب اسی کی مخلوق ہے لیکن وہ اس شخص کو چن لیتا ہے جو اس کو چتا ہے وہ اس کے پاس آجاتا ہے، جو اس کے پاس جاتا ہے، جو اس کو عزت دیتا ہے وہ بھی اس کو عزت دیتا ہے۔تم اپنے دلوں کو سیدھے کر کے اور زبانوں اور آنکھوں اور کانوں کو پاک کر کے اس کی طرف آجاؤ کہ وہ تمہیں قبول کرے گا۔“ (کشتی نوح۔روحانی خزائن جلد 19 صفحہ 15) جماعت احمدیہ کی کامیابی کے متعلق حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ کی پیشگوئی: حضرت خلیفۃ السیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مل کر ہمارے مقابلہ میں ایک فیصدی کامیابی کر سکیں تو وہ سچے مگر ناممکن ہے کہ انہیں کامیابی ہو۔باقی رہیں عارضی مشکلات سو یہ آیا ہی کرتی ہیں وہ بے شک ہمیں ماریں، پیٹیں، ہم میں سے بعض کو لولا لنگڑا کردیں یا جان سے مار دیں، ہمیں اس کی پروا نہیں! جس چیز کی پروا ہے وہ یہ ہے کہ ہم ہار نہ جائیں اور یہ یقینی بات ہے کہ دشمن ہی ہاریں گے ہم نہیں بار سکتے چاہے کوئی گورنمنٹ کھڑی ہو جائے ، علما اور عوام سب مل جائیں۔یہ قطعی اور یقینی بات ہے کہ ہم جیتیں گے، ہم کونے کا پتھر ہیں جس پر ہم گرے وہ بھی ٹوٹ جائے گا اور جو ہم پر گرا وہ بھی سلامت نہیں رہے گا۔یہ خدا تعالیٰ کا وعدہ ہے جو پورا ہو کر رہے گا۔“ تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 448 تا 449) خلافت احمدیہ کے خلاف پہلی مخالفانہ تحریک اور اس کا انجام 1932 ء میں بعض مخالفین نے جماعت احمدیہ کی بڑھتی ہوئی ترقی کو روکنے بلکہ اسے صفحہ ہستی سے مٹانے کی دھمکی دی اور پھر تمام مخالف احمدیت طاقتیں میدانِ مخالفت میں اتر پڑیں، حتی کہ صوبہ پنجاب میں برسر اقتدار انگریزی حکومت حضرت خلیفۃ اسیح الثانی رضی اللہ عنہ اور جماعت احمدیہ کے خلاف حرکت میں آگئی اور سراسر ناروا، ناشائستہ اور ناجائز حربوں سے حملہ آوروں کی پشت پناہی کرنے لگی۔خلافت احمدیہ اور احمدیت کے خلاف اپنی نوعیت کی اس پہلی منظم اور ہمہ گیر مخالفت میں کیسے عروج و زوال آیا اس کی تفصیل کچھ یوں ہے: 1932ء میں جب مخالفین ابھی اپنی تیاریوں میں لگے ہوئے تھے اور اندر ہی اندر سازش تیار ہو رہی تھی۔ایک احراری لیڈر نے اظہار کر دیا کہ وہ احمدیوں کو کچل کر رکھ دیں گے۔حضرت خلیفہ امسیح الثانی رضی اللہ عنہ نے اس کے بارہ میں فرمایا: ابھی تھوڑے دنوں کا واقعہ ہے کہ احرار کے لیڈروں میں سے ایک لیڈر نے جو اپنے جذبات پر قابو نہیں رکھ سکتے تھے ایک مجلس میں جو صلح کے لئے منعقد ہوئی تھی کہہ دیا کہ ہم نے فیصلہ کر لیا ہے کہ ہم احمدیوں کو کچل ڈالیں گے۔“ ( تاریخ احمدیت جلد 7 صفحہ 9) مخالفین کی فہرست میں سب سے اوپر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ اور پھر جماعت کا وجود تھا۔خلافت سے خطرہ محسوس کرتے ہوئے احرار اور گورنمنٹ ہمیشہ اس کوشش میں رہی کہ کسی طرح اس کا خاتمہ کیا جائے جیسا کہ احرار کی لیڈر بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: 423