مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 36
پر پہنچ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم کے دروازہ پر دستک دی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لائے تو حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں آپ سے صرف ایک بات پوچھنے آیا ہوں کہ آپ نے یہ کہا کہ خدا کے فرشتے مجھ پر نازل ہوتے ہیں اور مجھ سے باتیں کرتے ہیں؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس خیال سے کہ ایسا نہ ہو کہ ان کو ٹھوکر لگ جائے تشریح کرنی چاہی لیکن حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا آپ تشریح نہ کریں اور مجھے صرف اتنا بتائیں کہ آپ نے یہ بات کہی ہے؟ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پھر اس خیال سے کہ معلوم نہیں یہ سوال کریں کہ فرشتوں کی شکل کیسی ہوتی ہے اور وہ کس طرح نازل ہوتے ہیں؟ پہلے کچھ تمہیدی طور پر بات کرنی چاہی لیکن ابو بکر رضی اللہ عنہ نے پھر کہا: نہیں نہیں! آپ صرف یہ بتائیں کہ کیا یہ بات درست ہے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہاں درست ہے! اس پر حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے عرض کیا: میں آپ پر ایمان لاتا ہوں اور پھر انہوں نے کہا: یا رسول اللہ! میں نے دلائل بیان کرنے سے صرف اس لئے روکا تھا کہ میں چاہتا تھا کہ میرا ایمان مشاہدہ پر مبنی ہو، دلائل پر اس کی بنیاد نہ ہو کیونکہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کو صادق اور راستباز تسلیم کرنے کے بعد کسی دلیل کی ضرورت ہی نہیں رہتی۔“ از تفسیر کبیر جلد 2 صفحه 251) آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی نظر میں حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کا مقام: أَبِي إِدْرِيسَ عَنْ أَبِي الدَّرْدَاءِ قَالَ كُنْتُ جَالِسًا عِنْدَ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا قُبَلَ أَبُو بَكْرٍاخِذًا بِطَرَفِ ثَوْبِهِ حَتَّى أَبْدَى عَنْ رُكْبَتِهِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ اَمَّا صَاحِبُكُمْ فَقَدْ غَامَرَ فَسَلَّمَ وَقَالَ إِنِّي كَانَ بَيْنِي وَبَيْنَ ابْنِ الْخَطَّابِ شَيْ ءٍ فَأَسْرَعْتُ إِلَيْهِ ثُمَّ نَدِمْتُ فَسَأَلْتُهُ أَنْ يَغْفِرَ لِي فَابِي عَلَيَّ فَأَقْبَلْتُ إِلَيْكَ فَقَالَ يَغْفِرُ اللَّهُ لَكَ يَا أَبَا بَكْرٍ ثَلْنَا ثُمَّ إِنَّ عُمَرَ نَدِمَ فَاتِى مَنْزِلَ أَبِي بَكْرٍ فَسَأَلَ أَثَمَّ أَبُو بَكْرٍ فَقَالُوا لَا فَا تي إِلَى النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فَسَلَّمَ فَجَعَلَ وَجْهُ النَّبِيِّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ يَتَمَعَّرُ حَتَّى أَشْفَقَ أَبُو بَكْرٍ فَجَثَا عَلَى رُكْبَتَيْهِ فَقَالَ يَا رَسُولَ اللهِ وَاللهِ اَنَا كُنتُ أَظْلَمَ مَرَّتَيْنِ فَقَالَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِنَّ اللَّهَ بَعَثَنِي إِلَيْكُمُ فَقُلْتُمْ كَذَبْتَ وَقَالَ أَبُو بَكْرٍ صَدَقَ وَوَاسَانِى بِنَفْسِهِ وَمَالِهِ فَهَلْ اَنْتُمْ تَارِكُوا لِى صَاحِبِي مَرَّتَيْنِ فَمَا أُوْذِيَ بَعْدَهَا۔ابو ادریس سے ابو الدرداء سے روایت ہے کہ انہوں نے کہا میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھا ہوا تھا اتنے میں ابو بکر اپنے کپڑے تہہ بند) کا ایک کنارہ اٹھائے ہوئے سامنے آگئے، اتنا اُٹھائے ہوئے تھے کہ ان کے گھٹنے ننگے تھے۔نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تمہارے ساتھی تو کسی سے لڑ کے آئے ہیں۔انہوں نے آکر السلام علیکم کہا اور بولے: میرے اور ابن خطاب کے درمیان کوئی بات ہوئی تھی تو میں نے انہیں جلد بازی میں کچھ کہہ دیا پھر میں نادم ہوا اور میں نے ان سے کہا کہ مجھے معاف کر دیں مگر انہوں نے میری بات نہیں مانی اس لیے میں آپ کے پاس آیا ہوں۔آپ نے تین بار فرمایا۔ابو بکر! اللہ آپ کی پردہ پوشی فرمائے اور درگزر فرمائے۔پھر عمر رضی اللہ عنہ بھی نادم ہوئے اور ابو بکر کے گھر پر آئے، پوچھا: ابو بکر یہاں ہیں؟ انہوں نے کہا نہیں پھر وہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئے اور انہوں نے آ کر السلام علیکم کہا تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا چہرہ متغیر ہونے لگا اور ابو بکر ڈر گئے اور وہ دوزانو ہو کر بیٹھ گئے دو دفعہ کہا: یا رسول 36