مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 35
تم میں سے جو لوگ ایمان لائے اور نیک اعمال بجا لائے اُن سے اللہ نے پختہ وعدہ کیا ہے کہ انہیں ضرور زمین میں خلیفہ بنائے گا جیسا کہ اُس نے اُن سے پہلے لوگوں کو خلیفہ بنایا اور اُن کے لئے اُن کے دین کو، جو اُس نے اُن کے لیے پسند کیا، ضرور تمکنت عطا کرے گا اور اُن کی خوف کی حالت کے بعد ضرور انہیں امن کی حالت میں بدل دے گا۔وہ میری عبادت کریں گے۔میرے ساتھ کسی کو شریک نہیں ٹھہرائیں گے اور جو اس کے بعد بھی ناشکری کرے تو یہی وہ لوگ ہیں جو نافرمان ہیں۔“ (ترجمه از قرآن کریم اردو ترجمہ از حضرت خلیفه لمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی) حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ : آپ رضی اللہ عنہ کا اسم گرامی عبداللہ بن ابی قحافہ عثمان بن عامر بن عمر و كعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی بن الغالب القرشی التیمی ہے۔نسب کے لحاظ سے آپ رضی اللہ عنہ اور رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم مرہ بن کعب کی اولاد ہیں۔شب معراج کے ثبوت میں کفار کو جواب دینے کی وجہ سے آپ رضی اللہ عنہ کا لقب صدیق سے ملقب ہونا مشہور ہے۔زمانہ جاہلیت میں بھی آپ رضی اللہ عنہ قریش کے سردار تھے۔قریش آپ رضی اللہ عنہ سے مشورہ کیا کرتے تھے۔ابو فصیح نے حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی زبانی تحریر کیا ہے کہ والد صاحب حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ نے زمانہ جاہلیت ہی میں خود پر شراب حرام کر لی تھی۔ابن عساکر نے حضرت علی رضی اللہ عنہ کے حوالہ سے لکھا ہے کہ مردوں میں سب سے پہلے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اسلام لائے۔ابن عساکر نے عائشہ رضی اللہ عنہا اور عروہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کی زبانی لکھا ہے حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ پاس بوقت اسلام چالیس ہزار دینار تھے جو آپ رضی اللہ عنہ نے سب کے سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر صرف کر دیئے۔جب آپ رضی اللہ عنہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہجرت کی تو اس وقت پانچ ہزار درہم سے زیادہ باقی نہ تھے۔آپ رضی اللہ عنہ نے تمام دولت مسلمان غلاموں کو آزاد کرانے اور اسلام کی مدد میں خرچ کی۔کے عنہ تاریخ الخلفا ترجمہ اقبال الدین احمد صفحہ 44 تا 55) " حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ کا قبول اسلام: حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے اسلام قبول کرنے کا واقعہ یوں بیان فرماتے ہیں: رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دعوی نبوت فرمایا تو اس وقت حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ عنہ کہیں باہر گئے ہوئے تھے واپس تشریف لائے تو آپ رضی اللہ عنہ کی ایک لونڈی نے آپ سے کہا کہ آپ کا دوست تو (نعوذ باللہ) پاگل ہو گیا ہے اور وہ عجیب عجیب باتیں کرتا ہے کہتا ہے کہ مجھ پر آسمان سے فرشتے نازل ہوتے ہیں۔حضرت ابو بکر صدیق رضی اللہ تعالیٰ عنہ اسی وقت اُٹھے اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے مکان 55 35