مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 349
خاکسار 11 نومبر 1963ء کو احمدی ہوا اور 9 اپریل 1965 ء کو خاکسار کی شادی ہوئی۔بارہ سال تک خاکسار کے ہاں کوئی اولاد نہ ہوئی تمام رشتہ دار غیر احمدی تھے اور مخالفت کرتے تھے۔وہ تمام اور گاؤں والے بھی یہی ا کہتے کہ چونکہ یہ قادیانی ہو گیا ہے لہذہ یہ ابتر رہے گا (نعوذ باللہ )۔خاکسار نے اس تمام عرصہ میں ہر قسم کا علاج کروایا لیکن اولاد نہ ہوئی۔دوسری طرف میری بیوی بھی رشتہ داروں کے طعنے سن کر میری دوسری شادی کرنے پر رضا مند ہو گئی۔اس اثنا میں خاکسار نے حضرت خلیفہ اصبح الثالث رحمہ اللہ تعالی کی خدمت میں تمام حالات لکھ کر درخواست دعا کی کہ خدا تعالیٰ اولاد سے نوازے۔حضور ( حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ) نے خط میں فرمایا کہ اللہ تعالیٰ آپ کو کبھی ضائع نہیں کرے گا اور ضرور نرینہ اولاد سے نوازے گا۔حضور (حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ) کی اس دعا کی برکت سے اب میرے چار لڑکے ہیں۔تمام لوگ حیران ہیں کہ یہ اولاد کس طرح ہو گئی حالانکہ لیڈی ڈاکٹروں نے کہا تھا کہ اس عورت سے اولاد ہونے کا سوال ہی پیدا نہیں ہوتا۔خاکسار اس کے جواب میں اپنے غیر احمدی رشتہ داروں کو یہی کہتا ہے کہ یہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام کی صداقت کا زندہ نشان ہے جو کہ اللہ تعالیٰ نے خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کی دعا کی برکت سے دیا۔“ ( میاں محمد اسلم آف کماس پتوکی ضلع قصور از ماہنامہ خالد سید نا ناصر نمبر اپریل مئی 1983 ء صفحہ 293,292) چودھری محمد سعید کلیم دارالعلوم غربی ربوہ لکھتے ہیں: ”میری بہو جو آج کل جرمنی میں ہے اس کو پیٹ میں درد ہوتا تھا چنانچہ وہاں کے ڈاکٹروں نے مشورہ دیا کہ آپریشن کراؤ۔میں نے یہ خط حضور (حضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ) کو پیش کیا اور عرض کی کہ حضور (حضرت خلیفة رأسيح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ) دعا کریں کہ میری بہو بغیر آپریشن کے ٹھیک ہو جائے تو آپ (حضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اس کو لکھ دو کہ آپریشن نہ کرائے میں دعا کروں گا وہ ٹھیک ہو جائے گی۔“ چنانچہ میں نے حضور (حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ) کے الفاظ اس کو لکھ دیئے اور وہ بغیر آپریشن کے ٹھیک ہو گئی اور اب تک ٹھیک ہے۔الحمد للہ“ (ماہنامہ خالد سید نا ناصر نمبر اپریل مئی 1983ء۔صفحہ 291) مکرم چوہدری بشیر احمد صاحب لکھتے ہیں: فروری1970ء کی بات ہے عاجز کی اہلیہ بس کے ایک حادثہ سے زخمی ہو گئیں خصوصاً سر کی چوٹ کے باعث بیہوشی طاری تھی۔خون بے حساب یہ چکا تھا۔فضل عمر ہسپتال میں مرہم پٹی ہوئی سر کے زخم کو ٹانکے لگے۔مکرم ڈاکٹر قریشی لطیف احمد صاحب اور مکرم عبدالجبار صاحب اینڈ (attend) کر رہے تھے (جزاکم اللہ )۔بے ہوشی کے باعث جو تقریباً چھتیں گھنٹہ رہی، بے حد تشویش تھی۔الحمد للہ حضور پر نور (حضرت خلیفۃ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ) کی دعائے مستجاب میسر آ گئی۔حضور انور (حضرت خلیفہ راح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ) کی خدمت میں تحریری طور پر تفصیل عرض کی گئی جس پر حضور انور (حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ) کے اپنے دست مبارک سے لکھے ہوئے یہ الفاظ دل کی ڈھارس کا باعث ہوئے اور شفا یابی کے بارے میں یقین کے مقام پر پہنچا گئے۔(حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ”اللہ تعالیٰ اپنے فضل سے شفا دے اور خیریت سے رکھے۔چھتیس گھنٹے کے بعد جب اہلیہ اہم (یعنی میری اہلیہ ) ہوش میں آئیں تو پھر کامل شفا کے لئے حضور انور ( حضرت خلیفة أصبح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ سے مزید درخواست دعا کی گئی اس پر حضور انور (حضرت خلیفۃ امسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اپنے دست مبارک سے تحریر فرمایا: ”الحمد للہ اللہ تعالیٰ صحت کاملہ عاجلہ عطا 349