مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 327 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 327

327 واقعہ ہوا کہ میرے ساتھ کے کمرے میں عزیزم مرزا لقمان احمد سوتے ہیں، وہ جب صبح اٹھے نماز کے لئے تو ان کے دل میں اللہ تعالیٰ نے القا کیا بڑے زور سے کہ آج رات خدا تعالیٰ نے مجھے کچھ خوشخبری دی ہے۔تو ان کے دل میں یہ ڈالا گیا کہ میں پوچھوں کہ رات کیا بات ہوئی ہے جو خدا تعالیٰ نے خاص طور پر آپ کو خوشخبری عطا فرمائی ہے۔تو بیک وقت یہ دونوں باتیں مزید اس بات کو اس امید بلکہ یقین کو طاقت دیتی ہے کہ اللہ تعالیٰ جماعت کے ساتھ خاص نصرت اور حفاظت کا معاملہ فرمائے گا۔پہلی رؤیا میں میں نے دیکھا کہ ایک برآمدہ میں ایک مجلس لگی ہوئی ہے جس میں حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ کرسی پر بیٹھے ہوئے ہیں اور ساتھ کرسیوں پر دوسرے احمدی بیٹھے آپ کی بات سن رہے ہیں۔میں جاتا ہوں تو خواب میں مجھے تعجب نہیں ہوتا بلکہ یہ علم ہے کہ اس وقت میں خلیفہ ہوں اور یہ بھی علم ہے کہ آپ بیٹھے ہوئے ہیں اور کوئی اس بات میں آپس میں کوئی ٹکراؤ نہیں ہے یعنی ذہن میں معلوم ہونے کے باوجود کہ آپ فوت شدہ ہیں اس نظارے سے طبیعت میں کسی قسم کا کوئی تردد نہیں پیدا ہوتا۔آپ کی جب مجھ پر نظر پڑتی ہے تو ساتھ والی کرسی پر بیٹھے ہوئے شخص کو جن کا چہرہ میں پہچانتا نہیں بہت سے آدمی ہیں لیکن بے نام چہرے ہیں تو اس کو فوراً اشارہ سے کہتے ہیں کرسی خالی کرو اور مجھے پاس بیٹھا کر مصافحہ کرتے ہیں اور ہاتھ کو بوسہ دیتے ہیں جس طرح کوئی خلیفہ وقت کے ہاتھ کو بوسہ دیتا ہے اور مجھے اس سے شرمندگی ہوئی ہے۔مجھے معلوم ہے کہ آپ کیا کہنا چاہتے ہیں کہ میں جانتا ہوں کہ تم خلیفہ ہو لیکن طبیعت میں سخت شرم محسوس ہوتی ہے اور انکسار پیدا ہوتا ہے۔تو میں فوراً آپ (حضرت خلیفہ اُسیح الثالث رحمہ اللہ تعالی۔ناقل) کے ہاتھ کو بوسہ دیتا ہوں تو آپ یہ بتانے کے لیے کہ نہیں میرا بوسہ باقی رہے گا تمہارے بوسے سے یہ Cancel نہیں ہوتا، دوبارہ میرے ہاتھ کو پھر بوسہ دیتے ہیں بھینچ کر اور پھر میں محسوس کرتا ہوں کہ اب تو اگر میں نے یہ سلسلہ شروع کر دیا تو ختم نہیں ہو گا اس لئے اس بحث کا کوئی فائدہ نہیں۔چنانچہ میں اصرار بند کر دیتاہوں۔اس کے بعد مجھے فرماتے ہیں کہ اب تو تم پوری طرح خلافت کا چارج لے لو، اب مجھے رخصت کرو یعنی میرے ساتھ رہنے کی ضرورت کیا ہے اب؟ تو میں کہتا ہوں کہ اس میں ایک حکمت ہے اور وہ یہ سے کہ خلافت کوئی شریکا نہیں۔کوئی ایسی چیز نہیں ہے دنیا کی جس میں کسی قسم کا حسد یا مقابلہ ہو بلکہ یہ ایک نعمت ہے اور انعام ہے۔میں دنیا کو بتانا چاہتا ہوں کہ صاحب انعام لوگوں میں آپس میں محبت ہوتی ہے، پیار کا تعلق ہوتا ہے اور کسی قسم یا مقابلہ نہیں ہوتا۔تو یہ مفہوم میں آپ کے سامنے بیان کرتا ہوں اور اس کے بعد یہ نظارہ ختم ہو گیا۔ایک اور بات آپ نے مجھے خواب میں کہی جو مبارک ہے اس میں اس بات کی طرف اشارہ تھا کہ ایک بات میں نے کہی ہے اور وہ انشاء اللہ تعالیٰ جماعت کے حق میں اچھی ہو گی۔اس کے بعد یہ نظارہ ختم ہوا تو کچھ دیر کے بعد اسی رات خواب میں صرف یہ چھوٹا سا نظارہ دیکھا ہے کہ حضرت امة الحفیظ بیگم صاحبہ جو حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کی صاحبزادی اور ہماری پھوپھی ہیں وہ میرے گھر میں داخل ہو رہی ہیں اور اس کے سوا اور کوئی نظارہ نہیں ہے صرف ان کو میں گھر میں داخل ہوتے دیکھتا ہوں اور خواب ختم ہو جاتی ہے۔کا حسد تیسری خواب میں دیکھا کہ ایک میز چھٹی ہوئی ہے اور اس پر ہم کھانا کھا رہے ہیں اور میرے دائیں جانب حضرت سیدہ نواب مبارکہ بیگم رضی اللہ عنہا بیٹھی ہوئی ہیں اور بڑے خاص پیار اور محبت کے ساتھ میرے ساتھ کھانے میں شریک ہیں۔تو یہ تینوں خواہیں اُوپر تلے نظر آنی اللہ تعالیٰ کی خاص نصرت کی طرف دلالت کر رہی ہیں۔معلوم یہ ہوتا ہے کہ خدا تعالیٰ جماعت کو غیر معمولی نصرت بھی عطا فرمائے گا اور اگر کچھ حالات مخدوش