مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 323
20، 25 آدمی تو وہاں مارے گئے اور کئی سو زخمی ہوئے تھے ، سینکڑوں مکان اور دکانیں لوٹی گئیں، بہت خراب حالت ہو رہی تھی اور یہ حالت کوئی ایک مہینہ آزادی سے پہلے تھی ، دوست خود بھی دعائیں کر رہے تھے بڑی دعا کرنے والی یہ قوم ہے مجھے بھی دعا کیلئے لکھ رہے تھے چنانچہ میں نے بھی ان کے لئے دعا کی لیکن میری دعا کسی علاقہ کے لئے محدود تو نہیں ہوتی ساری جماعت کے لئے اس رات بڑی کثرت سے دعا کرنے کی خدا نے مجھے توفیق دی اور صبح میری زبان پر یہ الفاظ جاری ہوئے نشان فتح جاری صبح سحری کے وقت جب میں بیدار ہوا ہوں تو نیم بیداری میں یا بیدار ہونے کے بعد مجھے غنودگی کا ایک جھونکا آیا اور یہ الفاظ زبان پر جاری ہوئے بیدار ہونے کے بعد میں نے مصرعہ کو مکمل کیا۔نشان فتح نمایاں بنام ما باشد یہ مصرعہ حضرت مسیح موعود کے فارسی منظوم کلام کا تھوڑی سی تبدیلی کے ساتھ ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ مصرعہ یہ ہے: ”ندائے فتح نمایاں برائے ما باشد۔السلام کا لیکن اس وقت میری زبان پر غنودگی میں آدھا مصرعہ ”نشان فتح تھا جس وقت میں بیدار ہوا تو زبان خود بخود آگے چلتی گئی اور بنام ما باشد کے ساتھ وہ مصرعہ مکمل ہو گیا۔چونکہ ان دنوں ان کے خطوط بھی آ رہے تھے اس لئے میں نے مولوی محمد اسماعیل صاحب منیر کو لکھا کہ اس طرح اللہ تعالیٰ نے رحمت کا اظہار کیا ہے میں یہ تو نہیں کہہ سکتا کہ تمہارے لئے یا صرف تمہارے لیے ہے لیکن بہر حال اللہ تعالیٰ فتح کے نمایاں نشان کہیں نہ کہیں تو ظاہر کرے گا ہی۔اور کل ہی جو ان کا خط آیا اس میں انہوں نے ساری تفصیل لکھ کر لکھا ہے کہ ہمارے لیے تو ”نشان فتح نمایاں ظاہر ہو گیا اختتامی خطاب بر موقع مشاورت 7 اپریل 1968ء مطبوعه الفضل ربوہ 9 ستمبر 1999ء۔روزنامه الفضل ربوہ 25 مئی 2000ء صفحہ 13 ) ہے۔66 وفات سے قبل اپنے رب سے رازو نیاز: خلافت کے بابرکت منصب پر فائز ہونے کے بعد سب سے پہلے خطبہ جمعہ (11جون 1982 ء) میں حضرت خلیفۃ المسح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے حضرت خلیفہ اُسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ کا ذکر کرتے ہوئے فرمایا: حضور کی یاد دل سے محو ہونے والی نہیں۔اس کے تذکرے انشاء اللہ جاری رہیں گے۔آخری بیماری کا ایک واقعہ میں صرف آپ کے سامنے رکھنا چاہتا ہوں۔وفات سے غالباً ایک یا دو دن پہلے آپا طاہرہ کو حضور نے فرمایا کہ گزشتہ چار دنوں میں میری اپنے رب سے بہت باتیں ہوئی ہیں۔میں نے اپنے رب سے عرض کیا کہ اے میرے اللہ! اگر تو مجھے بلانے میں ہی راضی ہے تو میں راضی ہوں مجھے کوئی تردد نہیں۔میں ہر وقت تیرے حضور بیٹھا ہوں لیکن اگر تیری رضا یہ اجازت دے کہ جو کام میں نے شروع کر رکھے ہیں ان کی تکمیل اپنی آنکھوں سے دیکھ لوں تو یہ تیری عطا ہے۔خدا کی تقدیر جس طرح راضی تھی اور جس طرح آپ نے تسلیم خم کیا آج ساری جماعت اس تقدیر کے حضور سر تسلیم خم کر رہی ہے۔“ الفضل ربوہ 22 جون 1982ء) 323