مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 322 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 322

حالیہ دورہ (1980ء - ناقل) کے دوران مجھے دو مرتبہ کشف میں ایک نظارہ دکھایا گیا کہ کائنات کی ہر شے خدا کی تسبیح اور اس کی وحدانیت کا ورد کر رہی ہے۔واقعہ یوں ہے کہ میں سونے کی تیاری میں تھا، لا الهَ إِلَّا الله کا ورد کر رہا تھا، آنکھیں میری بند تھیں مگر کشفی آنکھوں نے یہ نظارہ دیکھا کہ میرے آگے سے سمندر کی طرح کائنات کی ہر چیز ہلکے انگوری رنگ کے مائع کی صورت میں بہتی ہوئی گزر رہی ہے اور اس میں چھوٹے چھوٹے سفید چمکدار حصے تھے جو لا إِلهُ إِلَّا الله کی صوتی لہریں تھیں۔“ قرآن کریم کی بکثرت اشاعت: (ماہنامہ خالد نومبر دسمبر 1980ء۔صفحہ 7 روز نامہ الفضل ربوہ 25 مئی 2000ء۔صفحہ 13) حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے 11 دسمبر 1976ء کے خطبہ جمعہ میں فرمایا:۔اس وقت اصل چیز یہ ہے جو میرے دل کی تڑپ ہے اور جو آپ کے دل کی آواز ہے کہ قرآن کریم کی کثرت سے اشاعت کی جائے اور میں امید رکھتا ہوں کہ ہم اس میں کامیاب ہوں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ نے الہاما مجھے ایسا ہی بتایا ہے تفصیل نہیں بتا سکتا۔“ 1980ء کے دورہ مغرب میں حضرت خلیفہ اسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے اس راز سے پردہ اٹھایا اور خطبہ جمعہ فرمودہ 4 جولائی 1980ء بمقام فرینکفرٹ (جرمنی) فرمایا: ایک دن مجھے یہ بتایا گیا کہ تیرے دور خلافت میں پچھلی دو خلافتوں سے زیادہ اشاعت قرآن کا کام ہو گا۔چنانچہ اب تک میرے زمانہ میں پچھلی دو خلافتوں کے زمانوں سے قرآن مجید کی دو گنا زیادہ اشاعت ہو چکی دنیا کی مختلف زبانوں میں اب تک قرآن مجید کے کئی لاکھ نسخے طبع کروا کر تقسیم کئے جاچکے ہیں۔“ نشان فتح نمایاں بنام ما باشد: ہے (بحوالہ دورہ مغرب 1400 ھ صفحہ 25، 26 - روز نامہ الفضل ربوہ 25 مئی 2000، صفحہ 13) حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ا بھی ماریشس کو 12 مارچ 1968 ء کو آزادی ملی۔یہ چھوٹا سا ملک ہے تقریباً تین لاکھ کی آبادی ہے اور مسلمان 20-21 یا 22 فیصد ہیں، 25 فیصد ہندو ہیں اور باقی جو لوگ ہیں وہ کریول (Creol) فرانسیسی بولنے والے عیسائی ہیں، کچھ چینی اور کچھ دوسرے لوگ ہیں یعنی بدھ مذہب وغیرہ۔اس موقع پر مسلمان بھی آپس میں پھٹ گئے تھے اور عیسائی بھی کچھ ہندو اکثریت کے ساتھ تعاون کرنا چاہتے تھے اور کچھ نہیں کر نا چاہتے تھے۔جب تک میری ہدایت نہیں آ گئی تھی اپنے احمدیوں کو بھی سمجھ نہیں آئی تھی اور ان میں بھی اختلاف رائے تھا۔میں نے اپنے مربی کو لکھا کہ حکومت سے پورا تعاون کریں کیونکہ ہمارا تو آرٹیکل آف فیتھ (Article of Faith) اور اعتقاد ہی یہ ہے اور ملک کو غیر حکومت سے آزادی مل رہی ہے اس خوشی میں ضرور شامل ہونا چاہئے ، جشن مناؤ پھر دن سیلی بریٹ (Celebrate) کیا گیا یعنی دس تاریخ کو دو دن Celebrate کیا گیا تھا۔۔۔۔۔اس وقت وہ ماریشس والے احمدی) بہت پریشان تھے اور اسماعیل منیر صاحب (مربی سلسلہ ماریشس ناقل) مجھے لکھ رہے تھے دعا کے لئے اور دوسرے دوست بھی مجھے دعا کے لئے لکھ رہے تھے کہ کوئی پتہ نہیں کہ کیا حالات پیدا ہوں۔فتنہ پھیل رہا ہے اور قتل و غارت ہو رہی ہے چنانچہ 322