مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 257
اپریل 1984ء میں آپ ہجرت فرما کر لندن تشریف لے گئے۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ کے دور مبارک میں اور بے شمار ترقیات کے علاوہ MTA کی چوبیس گھنٹے کی نشریات کا آغاز بھی یکم جنوری 1996ء کو ہوا۔19 اپریل 2003ء کو آپ نے وفات پائی اور لندن میں تدفین عمل میں آئی۔تعلق باللہ: حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: اتنا کامل یقین خدا تعالیٰ کی ہستی کا میرے دل میں ہے کہ میں خدا کی قسم کھا کر آپ کو کہتا ہوں کہ آج دنیا میں شاید ہی کوئی اور انسان ہو جس کو خدا تعالیٰ کی ہستی کا اپنے تجربے سے اتنا کامل یقین ہو جتنا مجھے ہے اور اس میں کوئی مبالغہ نہیں، کوئی تکبر نہیں۔لازماً یہ بات سو فیصد درست ہے۔“ الفضل انٹرنیشنل 15 اکتوبر 1999 ء ) حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فرمایا: ” جب بھی کوئی مشکل درپیش ہو تو آپ خدا کے حضور دعا میں لگ جائیں۔اگر آپ دعا کرنے کو اپنی عادت بنا لیں تو ہر مشکل کے وقت آپ کو حیران کن طور پر خدا کی مدد ملے گی اور یہ وہ بات ہے جو میری ساری عمر کا تجربہ ہے۔اب جبکہ میں بڑھاپے کی عمر کو پہنچ گیا ہوں تو میں یہ بتاتا ہوں کہ جب بھی ضرورت پڑی اور میں نے خدا کے حضور دعا کی تو میں کبھی ناکام نہیں ہوا۔ہمیشہ اللہ نے میری دعا قبول کی۔“ ساڑھے دس سال کی عمر کا ایک واقعہ: (روز نامه الفضل 15 اگست 1999 ء) حضرت سیّدہ (مراد حضرت اُمّم طاہر صاحب کی یہ دعائیں کس طرح اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں قبول ہوئیں آج اس کا ایک زمانہ شاہد ہے مگر ساڑھے دس سال کی عمر میں حضرت مرزا طاہر احمد صاحب کے عزائم کیا تھے اور حضرت سیدہ کی دعائیں کس طرح بار آور ہو رہی تھیں اس کا اندازہ ایک نہایت ہی ایمان افروز واقعہ سے لگایا جاسکتا ہے۔حضرت ڈاکٹر حشمت اللہ صاحب جو برس ہا برس حضرت فضل عمر کے فیملی ڈاکٹر کے طور پر خدمات بجا لاتے رہے بیان فرماتے ہیں: اس بچہ کا ایک عجیب و غریب واقعہ میں تازیست نہ بھولوں گا 1939 ء کی بات ہے جبکہ حضور ایدہ اللہ تعالیٰ (یعنی حضرت فضل عمر ) دھرم سالہ میں قیام پذیر تھے اور جناب عبدالرحیم صاحب نیر بطور پرائیویٹ سیکرٹری حضور کے ہمراہ تھے۔ایک دن نیر صاحب نے اپنے خاص لب و لہجہ کے ساتھ کہا: میاں طاہر احمد آپ نے ایک بات کوئی بات تھی) نہایت اچھی کہی ہے جس سے میرا دل بہت خوش ہوا۔میرا دل چاہتا ہے کہ میں آپ کو کچھ انعام دوں۔بتلائیے آپ کو کیا چیز پسند ہے تو اس بچہ نے جس کی عمر اس وقت ساڑھے دس سال کی تھی برجستہ کہا: ”اللہ ! نیر صاحب حیران ہو کر خاموش ہو گئے۔میں نے کہا: نیر صاحب اگر طاقت ہے تو اب میاں طاہر احمد کی پسندیدہ چیز دیجئے مگر آپ کیا دیں گے؟ اس چیز کے لینے کے لئے تو آپ خود ان کے والد کے قدموں میں بیٹھے ہیں۔“ الفضل 13 مارچ 1944 ، صفحہ 2 ) 257