مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 206 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 206

206 جائے گا اور ناپدید ہو جائے گا ایسے وقتوں میں ان کو سنایا گیا کہ يُرِيدُونَ أَنْ يُطْفِئُوا نُورَ اللهِ بِأَفْوَاهِهِمْ اللهُ إِلَّا انْ يُتِمَّ نُورَهُ وَلَوْ كَرِهَ الْكَافِرُونَ (سورۃ توبہ (32) یعنی یہ لوگ اپنے منہ کی لاف و گزاف سے بکتے ہیں کہ اس دین کو کبھی کامیابی نہ ہو گی یہ دین ہمارے ہاتھ سے تباہ ہو جاوے گا لیکن خدا کبھی اس دین کو ضائع نہیں کرے گا اور نہیں چھوڑے گا جب تک اس کو پورا نہ کرے پھر ایک اور آیت میں فرمایا ہے۔وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ امَنُوا (سورة النورآيت : 56) یعنی خدا وعدہ دے چکا ہے کہ اس دین میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفے پیدا کرے گا اور قیامت تک اس کو قائم کرے گا یعنی جس طرح موسیٰ علیہ السلام کے دین میں مدت ہائے دراز تک خلیفے اور بادشاہ بھیجتا رہا ایسا ہی اس جگہ بھی کرے گا اور اس کو معدوم ہونے نہیں دے گا۔“ ظہور قدرت ثانیہ : جنگ مقدس۔روحانی خزائن جلد 6 صفحہ 290) جماعت احمدیہ کا خلافت پر پہلا اجماع خلافت کے لئے حضرت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ پر اتفاق انتخاب اور بیعت: 26 مئی 1908ء کو حضرت مسیح موعود علیہ السلام بانی سلسلہ احمدیہ کی وفات ہوئی نعش مبارک کے قادیان پہنچنے کے بعد سب سے پہلا کام جو سلسلہ کے مقتدر بزرگوں نے اس وقت کیا وہ خلافت کے لئے حضرت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ کا انتخاب تھا۔چنانچہ جماعت کے دوست اکٹھے ہوئے اور مشورہ ہوا تو سب کی نظر میں حضرت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ کی طرف اٹھیں۔چنانچہ جب متفقہ فیصلہ ہو چکا تو اکابر سلسله جماعت مولوی نور الدین صاحب رضی اللہ عنہ کے مکان پر حاضر ہرئے اور مناسب رنگ میں بیعت خلافت کے لئے درخواست پیش کی۔آپ رضی اللہ عنہ نے کچھ تردد کے بعد فرمایا: ”میں دعا کے بعد جواب دوں گا چنانچہ وہیں پانی منگایا گیا آپ رضی اللہ عنہ نے وضو کیا اور غربی کوچہ کے متصل دالان میں نماز نفل ادا کی۔اس عرصہ میں یہ وفد باہر صحن میں انتظار کرتا رہا۔نماز سے فارغ ہونے کے بعد آپ رضی اللہ عنہ نے فرمایا چلو ہم سب وہیں چلیں جہاں ہمارے آقا کا جسد اطہر ہے اور جہاں ہمارے بھائی انتظار میں ہیں۔چنانچہ حضرت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ کی معیت میں تمام حاضرین باغ میں پہنچے۔“ ( تاریخ احمدیت) بدر قادیان جون 1908ء میں لکھا ہے: حضرت مفتی محمد صادق صاحب رضی اللہ عنہ سب دوستوں کے سامنے جو باغ میں اپنے محبوب آقا کی نعش کے پاس جمع تھے کھڑے ہوئے اور حضرت مولوی نورالدین صاحب رضی اللہ عنہ کی خدمت میں بطور نمائندہ مندرجہ ذیل تحریر پڑھ کر سنائیں: بِسْمِ اللهِ الرَّحْمَنِ الرَّحِيمِ نَحْمَدُهُ وَنُصَلِّي عَلَى رَسُولِهِ الْكَرِيمِ