مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 199
لیتا ہے۔پس وہ جو اخیر تک صبر کرتا ہے خدا تعالیٰ کے اس معجزہ کو دیکھتا ہے جیسا کہ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے وقت میں ہوا جبکہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی موت ایک بے وقتی موت سمجھی گئی اور بہت بادیہ نشین نادان مرتد ہو گئے اور صحابہ رضی اللہ عنہم بھی مارے غم کے دیوانہ کی طرح ہو گئے۔تب خدا تعالیٰ نے حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کو کھڑا کر کے دوبارہ اپنی قدرت کا نمونہ دکھایا اور اسلام نابود ہوتے ہوتے تھام لیا اور اس وعدہ کو پورا کیا جو فرمایا تھا۔وَلَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِّلَنَّهُمْ مِنْ بَعْدِ خَوْفِهِمْ فِهِمْ أَمْنًا۔یعنی خوف کے بعد پھر ہم ان کے پیر جمادیں گے۔ایسا ہی حضرت موسیٰ علیہ السلام کے وقت میں ہوا جبکہ حضرت موسیٰ علیہ السلام مصر اور کنعان کی راہ میں پہلے اس سے جو اس سے جو بنی اسرائیل کو وعدہ کے موافق منزل مقصود تک پہنچا دیں فوت ہو گئے اور بنی اسرائیل میں ان کے مرنے سے ایک بڑا ماتم برپا ہوا جیسا کہ توریت میں لکھا ہے کہ بنی اسرائیل اس بے وقت موت کے صدمہ سے اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی ناگہانی جدائی سے چالیس دن تک روتے رہے ایسا ہی حضرت عیسی علیہ السلام کے ساتھ معاملہ ہوا اور صلیب کے واقعہ کے وقت تمام حواری تتر بتر ہو گئے اور ایک ان میں سے مرتد ہو گیا۔سو اے عزیزو! جبکہ قدیم سے سنت اللہ یہی ہے کہ خدا تعالیٰ دو قدرتیں دکھاتا ہے تا مخالفوں کی دو جھوٹی خوشیوں کو پامال کر کے دکھلا دے۔سو ممکن نہیں ہے کہ خدا تعالیٰ اپنی قدیم سنت کو ترک کر دیوے اس لئے میری اس بات سے جو میں نے تمہارے پاس بیان کی عملین مت ہو اور تمہارے دل پریشان نہ ہو جائیں کیونکہ تمہارے لئے دوسری قدرت کا بھی دیکھنا ضروری ہے، اس کا آنا تمہارے لئے بہتر ہے کیونکہ وہ دائمی جس کا سلسلہ قیامت تک منقطع نہیں ہو گا اور وہ دوسری قدرت نہیں آ سکتی جب تک میں نہ جاؤں لیکن میں جب جاؤں گا تو پھر خدا اس دوسری قدرت کو تمہارے لئے بھیج دے گا جو ہمیشہ تمہارے ساتھ رہے گی جیسا کہ خدا کا براہین احمدیہ میں وعدہ ہے اور وہ وعدہ میری ذات کی نسبت نہیں ہے بلکہ تمہاری نسبت وعدہ ہے جیسا کہ خدا فرماتا ہے کہ میں اس جماعت کو جو تیرے پیرو ہیں قیامت تک دوسروں پر غلبہ دوں گا۔سو ضرور ہے کہ تم پر میری جدائی کا دن آوے تا بعد اس کے وہ دن آوے گا جو دائی وعدہ کا دن ہے۔وہ ہمارا خدا وعدوں کا سچا اور وفادار اور صادق خدا ہے وہ سب کچھ تمہیں دکھلائے گا جس کا اس نے وعدہ فرمایا ہے۔اگر چہ یہ دن دنیا کے آخری دن ہیں اور بہت بلائیں ہیں جن کے نزول کا وقت ہے پر ضرور ہے کہ یہ دنیا قائم رہے جب تک وہ تمام باتیں پوری نہ ہو جائیں جن کی خدا نے خبر دی۔میں خدا کی طرف سے ایک قدرت کے رنگ میں ظاہر ہوا اور میں خدا کی ایک مجسم قدرت ہوں اور میرے بعد بعض اور وجود ہوں گے جو دوسری قدرت کا مظہر ہوں گے۔سو تم خدا کی قدرت ثانی کے انتظار میں اکٹھے ہو کر دعا کرتے رہو اور چاہیے کہ ہر صالحین کی جماعت ہر ایک ملک میں اکٹھے ہو کر دعا میں لگے رہیں تا دوسری قدرت آسمان سے نازل ہو اور تمہیں دکھاوے کہ تمہارا ہے خدا ایسا قادر خدا ہے۔66 (رساله الوصیت روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 304 تا 306) حضرت مسیح موعود علیہ السلام مزید فرماتے ہیں: وَقَدْ أُشِيْرَنِي فِي بَعْضِ الْأَحَادِيثِ أَنَّ الْمَسِيحَ الْمَوْعُودَ وَالدَّجَّالَ الْمَعْهُودَ يَظْهَرَانِ فِي بَعْضِ الْبِلَادِ الْمَشْرِقِيَّةِ يَعْنِى فِى مُلْكِ الْهِنْدِ، ثُمَّ يُسَافِرُ الْمَسِيحُ الْمَوْعُودُ اَوْ خَلِيفَةٌ مِّنْ خُلَفَائِهِ إِلَى أَرْضِ دِمَشْقَ۔(حمامة البشرى روحانی خزائن جلد 7 صفحہ 225) ترجمہ: بعض احادیث میں اس بات کی طرف اشارہ کیا گیا ہے کہ مسیح موعود اور دجال معہود بعض مشرقی علاقوں 199