مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 196 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 196

196 لِيُظْهِرَهُ عَلَى الدِّينِ كُلِّهِ وَلَوْ كَرِهَ الْمُشْرِكُونَ (9:61) دین اسلام اور اس کا رسول اس لئے آیا کہ تمام دینوں اور قوموں پر بالآخر غالب ہو کر رہے کیونکہ آخری غلبہ بقا صرف اصلح کے لئے ہے اور تمام دینوں میں اصلح صرف اسلام ہی ہے۔یہی وجہ ہے کہ مایوسیوں اور نامرادیوں کی اس عالمگیر تاریکی میں بھی جو آج چاروں طرف پھیلی ہوئی مومن قلب کیلئے فتح و اقبال کی روشنیاں برابر چمک رہی ہیں بلکہ جس قدر تاریکی بڑھتی جاتی ہے اتنا ہی زیادہ طلوع صبح کا وقت قریب آ جاتا ہے: إِنَّ مَوْعِدَ هُمُ الصُّبْحُ أَلَيْسَ الصُّبْحُ بِقَرِيبٍ ان کے لئے صبح کا وقت مقرر ہے کیا صبح کا وقت قریب نہیں آ گیا؟ تفاوت ست میان شنیدن من و تو تو بستن در و من فتح باب می شنوم ہے ایک ڈاکٹر میر معظم علی علوی: مسئله خلافت از ابوالکلام آزاد 25-24 ناشر مکتبہ جمال لاہور 2001ء) دور حاضر میں نظام خلافت کی ضرورت و اہمیت پر ڈاکٹر میر معظم علی علوی نے کہا: آج کے لیکچر میں ہم یہ دیکھنے کی کوشش کریں گے کہ اگر یہ مبارک نظام انشاء اللہ سب سے پہلے پاکستان میں قائم۔ہو گیا تو اس کے طفیل ہم کو دین اور دنیا کی کیا برکات حاصل ہوں گی؟ یہاں برکات کے بیان کرنے سے میں ایک چیز آپ سے عرض کر دوں اور وہ یہ ہے کہ کسی شخص کے ذہن میں یہ خیال نہیں آنا چاہئے کہ کوشش جو ہم کر رہے ہیں یہ شاید ہمارے دماغ کی کوئی تحقیق ہے یا ہماری کوئی ریسرچ ہے۔اس قسم کی کوئی بات نہیں۔بلکہ ان تمام کوششوں کی، اس تمام فکر کی اور اس تمام دعوت کی بنیاد جناب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ ہے جو میں آپ کو پڑھ کر سناتا ہوں۔حضرت نعمان بشیر رضی اللہ عنہ حضرت حذیفہ رضی اللہ عنہ سے روایت کرتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ مَا شَاءَ اللهُ اَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًا فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللهُ اَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سَكَتَ۔(مسند حمد بن حنبل جلد 4 صفحه 273 ـ مشكوة بَابُ الْإِنْدَارِ وَالتَّحْدِيرِ) میں نبوت اس وقت تک رہے گی جب تک اللہ چاہے گا اور اللہ تعالیٰ نبوت اٹھالے گا اور اس کے بعد نبوت کے طریقے پر خلافت قائم ہو گی جب تک اللہ تعالیٰ چاہے گا پھر اللہ تعالیٰ اسے اٹھا لے گا اور پھر اس کے بعد بد اطوار بادشاہت ہو گی جب تک اللہ چاہے گا رہے گی پھر اللہ تعالیٰ اسے بھی اٹھا لے گا اور پھر نبوت کے طریقے پر خلافت قائم ہوگی۔پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے۔یہاں بھی میں وضاحت کر دوں کہ اس حدیث مبارکہ میں جن ادوار کا ذکر ہے ان میں سے دور نبوت، خلافت، بادشاہت کا دور گزر چکا ہے اس وقت جبر کی حکومت ہے اب اس کے بعد خلافت عـلـى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ کی باری ہے۔دنیا نے سارے ہی نظام دیکھ لئے لیکن کسی میں بھی چین نصیب نہیں ہوا۔اس وقت دنیا ہلاکت کے