مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 143
حضرت شاہ اسماعیل شہید صاحب رحمۃ اللہ علیہ کی یہ کتاب فارسی زبان میں ہے جس کا اردو ترجمہ حکیم محمد حسین علوی صاحب نے 1949ء میں لاہور سے شائع کیا تھا اور اسی ترجمہ سے یہ اقتباسات اردو میں یہاں نقل کئے جاتے ہیں) حضرت شاہ صاحب رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں: وو خلیفہ راشد وہ شخص ہے جو صاحب منصب امامت ہو اور سیاست ایمانی کے معاملات اس سے ظاہر ہوں جو اس منصب تک پہنچا وہی خلیفہ راشد ہے خواہ زمانہ سابق میں ظاہر ہوا۔خواہ موجودہ زمانہ میں ہو، خواہ اوائل امت میں ہو، خواہ اس کے آخر میں، خواہ فاطمی نسل سے ہو یا ہاشمی سے، خواہ نسل قصی سے ہو، خواہ نسل قریش سے۔اس لفظ خلیفہ کو بمنزلہ لفظ خلیل اللہ، کلیم اللہ، رُوح الله، حبیب اللہ یا صدیق اکبر، فاروقِ اعظم، ذوالنورین، مرتضی، مجتبی اور سید الشہدا یا ان کی مانند شمار نہ کرنا چاہیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک لقب بزرگان دین میں سے ایک خاص بزرگ کی ذات سے خصوصیت رکھتا ہے اس لقب کے اطلاق سے اسی بزرگ کی ذات تصور کی ا جاتی ہے اور اسی طرح یہ بھی نہ سمجھ لینا چاہیے کہ لفظ ” خلفائے راشدین، خلفائے اربعہ کی ذات سے خصوصیت رکھتا ہے کہ اس لفظ کے استعمال سے انہی بزرگوں کی ذات تصور ہوتی ہے۔حَاشَا وَ كَلَّا ! بلکہ اس لقب کو بمنزلہ ولی اللہ ، مجتہد، عالم، عابد، زاہد، فقیہ، محدث، متکلم، حافظ، بادشاہ امیر یا وزیر کے تصور کرنا چاہیے کیونکہ ان میں سے ہر ایک خاص منصب پر دلالت نہیں رکھتا جو کوئی بھی اس صفت سے متصف اور اس پر قائم ہو وہی اس لقب سے ملقب ہو سکتا ہے ! پس جیسا کہ کبھی کبھی دریائے رحمت سے کوئی موج سربلند ہوتی ہے اور ائمہ ہدی میں سے کسی امام کو ظاہر کرتی ہے ایسا ہی اللہ کی نعمت کمال تک پہنچتی ہے تو کسی کو تخت خلافت پر جلوہ افروز کر دیتی ہے اور وہی امام اس زمانہ کا خلیفہ راشد ہے اور وہ جو حدیث میں وارد ہے کہ خلافت راشدہ کا زمانہ رسول مقبول علیہ الصلوۃ والسلام کے بعد تمیں سال تک ہے اس کے بعد سلطنت ہو گی اس سے مراد یہ ہے کہ خلافت راشدہ متصل اور تواتر طریق پر تمیں سال تک رہے گی۔اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ قیام قیامت تک خلافت راشدہ کا زمانہ وہی تھیں سال ہے اور بس ! بلکہ حدیث مذکورہ کا مفہوم یہی ہے کہ خلافت راشدہ تمہیں سال گزرنے کے بعد منقطع نہ یہ کہ اس کے بعد پھر خلافت راشدہ کبھی عود ہی نہیں کر سکتی! بلکہ ایک دوسری حدیث خلافت راشدہ کے انقطاع کے بعد پھر عود کرنے پر دلالت کرتی پر دلالت کرتی ہے۔چنانچہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے:۔ہو تَكُونُ النُّبُوَّةُ فِيكُمْ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ مَاشَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا عَاضًا فَتَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ تَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ مُلْكًا جَبْرِيَّةً فَيَكُونُ مَا شَاءَ اللَّهُ أَنْ يَكُونَ ثُمَّ يَرْفَعُهَا اللَّهُ تَعَالَى ثُمَّ تَكُونُ خِلَافَةٌ عَلَى مِنْهَاجِ النُّبُوَّةِ ثُمَّ سكت نبوت تم میں رہے گی جب تک اللہ چاہے گا پھر اللہ تعالیٰ اسے اٹھا لے گا اور بعدۂ نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی جو اللہ کے منشا تک رہے گی پھر اسے بھی اللہ اٹھا لے گا، پھر بادشاہی ہو گی اور اسے بھی اللہ جب تک چاہے گا رکھے گا پھر اسے بھی اٹھا لے گا۔پھر سلطنت جابرانہ ہو گی جو منشائے باری تعالیٰ تک رہے گی پھر اسے بھی اٹھا لے گا اور اس کے بعد پھر نبوت کے طریقے پر خلافت ہو گی پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم چپ ہو گئے۔اور یہ امر بھی ظاہر ہے کہ حضرت مہدی علیہ السلام کی خلافت ، خلافت راشدہ سے افضل انواع میں سے ہو گی 143