مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 138 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 138

دوسری رسوم ہیں جو بالکل ہی لغویات اور بوجھ ہیں۔ہمیں تو خوش ہونا چاہئے کہ ہم ایسے دین کو ماننے والے ہیں جو معاشرے کے، قبیلوں کے، خاندان کے رسم و رواج سے جان چھڑانے والا ہے۔ایسے رسم و رواج جنہوں نے زندگی اجیرن کی ہوئی تھی، نہ کہ ہم دوسرے مذاہب والوں کو دیکھتے ہوئے ان لغویات کو اختیار کرنا شروع کردیں۔اس آیت کے ترجمے میں جو میں نے تلاوت کی ہے آپ سن چکے ہیں کہ تم ایسے دین اور ایسے نبی کو ماننے والے ہو جو تمہارے بوجھ ہلکے کرنے والا ہے، جن بیہودہ رسم و رواج اور لغو حرکات نے تمہاری گردنوں میں طوق ڈالے ہوئے ہیں، پکڑا ہوا ہے ان سے تمہیں آزاد کرنے والا ہے۔تو بجائے اس کے کہ تم اس دین کی پیروی کرو جس کو اب تم نے مان لیا ہے اور ان طور طریقوں اور رسم و رواج اور غلط قسم کے بوجھوں سے اپنے آپ کو آزاد کرو، ان میں دوبارہ گرفتار ہو رہے ہو؟ اللہ تعالیٰ تو فرماتا ہے کہ تم تو خوش قسمت ہو کہ اس تعلیم کی وجہ سے ان بوجھوں سے آزاد ہو گئے ہو اور اب فلاح پا سکو گے، کامیابیاں تمہارے قدم چومیں گی، نیکیوں کی توفیق ملے گی۔پس ہمیں یہ سوچنا چاہئے کہ اللہ تعالیٰ تو ان رسموں اور لغویات کو چھوڑنے کی وجہ سے ہمیں کامیابیوں کی خوشخبری دے رہا ہے اور ہم اب دوبارہ دنیا کی دیکھا دیکھی ان میں پڑنے والے ہو رہے ہیں۔بعض اور باتوں کا بھی میں نے ذکر کیا تھا کہ وہ بعض دفعہ احمدی معاشرہ میں نظر آتی ہیں۔بعض طبقوں میں تو یہ برائیاں بدعت کی شکل اختیار کر گئی ہیں۔ان کے خیال میں ان کے بغیر شادی کی تقریب مکمل ہو ہی نہیں سکتی یہ باتیں ہماری قوم کے علاوہ شاید دوسری قوموں میں بھی ہوں لیکن ہندوستان اور پاکستان کے احمدیوں نے سب سے پہلے حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام کو قبول کیا تھا (بہت سے ایسے بیٹھے ہیں جن کے بزرگوں نے قبول کیا تھا) ان کی یہ ب سے زیادہ ذمہ داری بنتی ہے کہ اپنے اندر کسی ایسے رسم و رواج کو راہ پانے کا موقع نہ دیں جہاں رسم رواج بوجھ بن رہے ہیں۔یعنی جن کا اسلام سے، دین سے، آنحضرت ملالہ کی تعلیم سے کوئی تعلق واسطہ نہ ہو۔اگر آپ لوگ اپنے رسم و رواج پر زور دیں گے تو دوسری قوموں کا بھی حق ہے۔بعض رسم و رواج تو دین میں خرابی پیدا کرنے والے نہیں وہ تو جیسا کہ ذکر آیا وہ بیشک کریں، ہر قوم کے مختلف ہیں جیسا کہ پہلے میں نے کہا کہ انصار کی شادی کے موقع پر بھی خوشی کے اظہار کی خاطر آنحضرت ملالہ نے مثال بیان فرمائی ہے لیکن جو دین میں خرابی پیدا کرنے والے ہیں وہ چاہے کسی قوم کے ہوں رڈ کئے جانے والے ہیں کیونکہ احمدی معاشرہ ایک معاشرہ ہے اور جس طرح اس نے گھل مل کر دنیا میں وحدانیت قائم کرنی ہے، اسلام کا جھنڈا گاڑنا ہے، اگر ہر جگہ مختلف قسم کی باتیں ہونے لگ گئیں اس سے پھر دین بھی بدلتا جائے گا اور بہت ساری باتیں بھی ہوتی چلی جائیں گی۔ان چھوٹی چھوٹی باتوں سے پھر بڑی بدعتیں پیدا ہوتی چلی جاتی ہیں اس لئے بہر حال احتیاط کرنی چاہئے۔“ پیدا , (خطبه جمعه فرموده 25 نومبر 2005ء از الفضل انٹر نیشنل 16 تا 22 دسمبر 2005ء) 138