مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 126
آیت کی تفسیر نہ ہو۔اگر تجدید دین والی یہ حدیث درست ہے اور ہے یہ درست) تو یہ قرآن کریم کی کسم کسی آیت کی تفسیر ہونی چاہئے اور اگر یہ قرآن کریم کی کسی آیت کی بھی تفسیر نہیں (میں سمجھتا ہوں کہ یہ کہنا غلط ہو گا یہ ضرور کسی آیت کی تفسیر ہے) تو پھر اس کو ہم یہ کہیں گے کہ یہ حدیث صحیح نہیں۔کسی راوی نے کہیں سے غلط بات اٹھا لی اور آگے بیان کر دی لیکن حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے ہمیں بتایا ہے کہ یہ جس آیت کی تفسیر ہے وہ آیت استخلاف ہے جس کی ابھی قاری صاحب نے تلاوت کی ہے اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: وَعَدَ اللَّهُ الَّذِينَ آمَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمُ فِي الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِي ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَةِ لَنَّهُمْ مِّنْم بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمْنًا يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ (سورة النور: 56 ) ط اس آیت کریمہ کو آیت استخلاف کہتے ہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے اپنی تقریروں اور تحریروں میں اس آیت کی تفسیر کرتے ہوئے خلیفہ اور مجدد کا لفظ اکٹھا استعمال کیا ہے ہمیں بتانے کیلئے کہ جہاں ہم مجدد بولتے ہیں وہاں سے مراد خلیفہ ہوتا ہے کیونکہ اگر یہ حدیث قرآن کریم کے مفہوم سے مطابقت نہیں رکھتی تو ہمیں یہ حدیث چھوڑنی پڑے گی۔“ سید نا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: الفضل 21 مئی 1978ء) آیت استخلاف میں دوسرا وعدہ یہ ہے کہ جو بزرگ وہ بھی جیسا کہ میں نے بتایا ہے گنتی کے لوگ نہیں۔مثلاً کہا گیا ہے کہ حضرت عمر بن عبدالعزیز رضی اللہ عنہ کے ساتھ اتنے بزرگ اولیاء اللہ تھے کہ جن کا کوئی شمار نہیں۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا ہے کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اُمت میں ان کے دین کی تجدید کے لئے ایک ایک وقت میں چار چار سو نبی ہوتے تھے۔امت محمدیہ تو بڑی وسعتوں والی اُمت ہے اور یہ تو ساری دنیا میں پھیلنے والی ہے اس میں تو سینکڑوں کے مقابلے میں ہزاروں ہوں گے یہ خلفا ہیں۔خلفا کے سلسلہ میں آپ علیہ السلام نے فرمایا کہ جس طرح كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ میں كَمَا “ مشابہت کیلئے آیا ہے یعنی جس طرح اُمت موسویہ میں ایک وقت میں چار چار سو نبی ہوتے ہوتے تھے اسی طرح اُمت محمدیہ میں چار چار سو سے کہیں زیادہ خلفائے محمد ہوں گے جو دین کی خدمت کرنے والے ہوں گے اور چونکہ انہوں نے تجدید کرنی ہے اس لئے وہ مجدد بھی ہیں اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لکھا ہے کہ ہر نبی مجدد ہے لیکن ہر مجدد نبی نہیں۔تھوڑی سی تجدید دین کرنے کے لحاظ سے اُمت کی اکثریت بطور خلیفہ محمد ملاقه مجدد بھی ہے وہ تجدید دین کرتے ہیں لیکن نبی تو نہیں بن گئے۔“ (الفضل 21 مئی 1978ء) 66 صال الله نے سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”اس وقت جماعت احمدیہ میں تیسرے خلیفہ کا زمانہ گزر رہا ہے۔چنانچہ مجھ سے پہلے ہر دو خلفا کا اور میرا بھی اس بات پر اتفاق ہے کہ ہر خلیفہ مجدد ہوتا ہے لیکن ہر مجدد خلیفہ نہیں ہوتا کیونکہ خلافت ایک بہت اونچا مقام ہے ایسے مجدد سے جو خلیفہ نہیں یعنی اس معنی میں جس کو ہم خلافت راشدہ کہتے ہیں۔حضرت نبی کریم فرمایا کہ پہلے خلفا ہوں گے پھر بادشاہت شروع ہو جائے گی اور پھر آخری زمانے میں منہاج نبوت پر خلفا کا زمانہ آجائے گا اور یہ کہ کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم خاموش ہو گئے جس کا مطلب یہ ہے کہ پھر اس کا سلسلہ قیامت تک چلے گا۔یہی مطلب ہم لیتے ہیں کیونکہ یہی مطلب حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے لیا ہے۔ایک 126