مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 122 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 122

ہوں لیکن رجال کے ماتحت ممکن ہے کہ اہل فارس میں سے کچھ اور لوگ بھی ایسے ہوں جو دین اسلام کی عظمت قائم رکھنے اور اس کی بنیادوں کو مضبوط کرنے کے لئے کھڑے ہوں۔“ (خطبه جمعه فرموده 8 ستمبر 1950ء روز نامه الفضل 22 ستمبر 1950ء - صفحہ 6) سیدنا حضرت اقدس مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: ” ساتواں ہزار ہدایت کا ہے جس میں ہم موجود ہیں چونکہ یہ آخری ہزار ہے اس لئے ضرور تھا کہ امام آخرالزمان اس کے سر پر پیدا ہو اور اس کے بعد کوئی امام نہیں اور نہ کوئی مسیح مگر وہ جو اس کیلئے بطور ظل کے ہو کیونکہ اس ہزار میں اب دنیا کی عمر کا خاتمہ ہے جس پر تمام نبیوں نے شہادت دی ہے اور یہ امام جو خدا تعالی کی طرف سے مسیح موعود علیہ السلام کہلاتا ہے وہ مجدد صدی بھی ہے اور مجدد الف آخر بھی۔“ (لیکچر سیالکوٹ۔روحانی خزائن جلد 20 صفحہ 208) تکمیل سیدنا حضرت مسیح موعود علیہ السلام فرماتے ہیں: رسول الله صل اللہ کی زندگی کے دو ہی مقصد بیان فرمائے ہیں یعنی تکمیل ہدایت اور تکمیل اشاعت ہدایت۔اوّل الذکر کی تکمیل چھٹے دن یعنی جمعہ کے دن ہوئی جبکہ آیت اَلْيَوْمَ أَكْمَلْتُ لَكُمْ دِينَكُمُ نازل ہوئی اور دوسری کیلئے بالا تفاق مانا گیا ہے کہ وہ مسیح ابن مریم یعنی مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہو گی۔سب مفسرین نے بالا تفاق لکھ دیا ہے کہ آیت هُوَ الَّذِی اَرْسَلَ رَسُولَهُ بِالْهُدی کی تکمیل کی نسبت لکھتے ہیں کہ یہ مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں ہو گی اور جبکہ پہلی تکمیل چھٹے دن ہوئی تو دوسری تکمیل بھی چھٹے دن ہی ہونی چاہئے تھی اور قرآنی دن ایک ہزار برس کا ہوتا ہے گویا مسیح موعود چھٹے ہزار میں ہو گا۔“ (الحکم جلد 12 نمبر 44 مورخہ 26 جولائی 1908ء صفحہ 3) سیدنا حضرت خلیفۃ المسیح الاول رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: و آنحضرت صلی الله حلقہ کی امت میں ہمیشہ کچھ ایسے پاک لوگ پیدا ہوتے رہیں گے جو آنحضرت ملالہ کے اصلی اور حقیقی مذہب اور تعلیم توحید کو قائم کرتے اور شرک و بدعات کا جو کبھی امتدادِ زمانہ کی وجہ سے اسلام میں راہ پا جاویں ان کا قلع قمع کرتے رہیں گے اور یہ ضروری ہے کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی سچی تعلیم و تربیت کا نمونہ ہمیشہ بعض ایسے لوگوں کے ذریعہ ظاہر ہوتا رہے جو امت مرحومہ میں ہر زمانہ میں موجود ہوا کریں۔چنانچہ قرآن شریف میں بھی بڑی صراحت سے اس بات کو الفاظ ذیل میں بیان کیا گیا ہے: وَعَدَ اللهُ الَّذِينَ امَنُوا مِنْكُمْ وَ عَمِلُوا الصَّلِحَتِ لَيَسْتَخْلِفَنَّهُمْ فِى الْأَرْضِ كَمَا اسْتَخْلَفَ الَّذِينَ مِنْ قَبْلِهِمْ ص وَ لَيُمَكِّنَنَّ لَهُمْ دِينَهُمُ الَّذِى ارْتَضَى لَهُمْ وَلَيُبَدِ لَنَّهُمْ مِّنْم بَعْدِ خَوْفِهِمْ اَمَنَّا ط يَعْبُدُونَنِي لَا يُشْرِكُونَ بِي شَيْئًا ط وَمَنْ كَفَرَ بَعْدَ ذَلِكَ فَأُولَئِكَ هُمُ الْفَسِقُونَ (سورة النور: 56 ) (الحکم 2 اپریل 1908ء صفحہ 4) سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: خلیفہ تو خود مجدد سے بڑا ہوتا ہے اور اس کا کام ہی احکام شریعت کو نافذ کرنا اور دین کو قائم کرنا ہوتا ہے۔پھر اس کی موجودگی میں مجدد کس طرح آسکتا ہے؟ مجدد تو اس وقت آیا کرتا ہے جب دین میں بگاڑ پیدا ہو جائے۔“ سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: مجلس عرفان سیدنا حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ الفضل 8 اپریل 1947ء) 122