مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 102
ہیں: د مسجد نبوی کی تعمیر و توسیع میں حضرت عثمان ذوالنورین رضی اللہ عنہ کا ہاتھ سب سے زیادہ نمایاں ہے۔عہد نبوی میں جب مسلمانوں کی کثرت کے باعث مسجد کی وسعت ناکافی ثابت ہوئی تھی تو اس کی توسیع کے لئے حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے قریب کا قطعہ زمین خرید کر بارگاہِ نبوت میں پیش کیا تھا، پھر اپنے عہد میں بڑے اہتمام سے اس کی توسیع اور شاندار عمارت تعمیر کروائی۔سب سے اول 24ھ میں اس کا ارادہ کیا لیکن مسجد کے گرد و پیش جن لوگوں کے مکانات تھے وہ کافی معاوضہ دینے پر بھی مسجد نبوی کی قربت کے شرف دست کش ہونے کے لیے راضی نہ ہوتے۔حضرت عثمانؓ نے ان لوگوں کو راضی کر نے کے لئے مختلف تدبیریں کیں لیکن وہ کسی طرح راضی نہ ہوئے یہاں تک کہ پانچ سال اس میں گزر گئے بالآخر 29ھ میں حضرت صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے مشورہ کرنے کے بعد حضرت عثمان رضی اللہ عنہ نے جمعہ کے روز ایک نہایت ہی مؤثر تقریر کی اور نمازیوں کی کثرت اور مسجد کی تنگی کی طرف توجہ دلائی۔اس تقریر کا اثر یہ ہوا کہ لوگوں نے سے اپنے مکانات دے دیئے اور آپ رضی اللہ عنہ نے نہایت اہتمام کے ساتھ تعمیر کا کام شروع کیا۔نگرانی کے لیے تمام عمال طلب کئے اور خود شب و روز مصروف کار رہتے تھے۔غرض دس مہینوں کی مسلسل جدوجہد کے بعد اینٹ، چونے اور پتھر کی ایک نہایت خوش نما اور مستحکم عمارت تیار ہو گئی، وسعت میں بھی کافی اضافہ ہو گیا یعنی طول میں پچاس گز کا اضافہ ہوا ، البتہ عرض میں کوئی تغیر نہیں کیا گیا۔خوشی (ب) ہمدردی خلق: سیر صحابہ جلد 1 - صفحه 228 تا 229) ترمذی کتاب الناقب میں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے مناقب کی ذیل میں لکھا عُثْمَانُ فَقَالَ اَنْشُدُ كُم بِاللَّهِ وَالْإِسْلَامِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّ رَسُولَ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَدِمَ الْمَدِينَةَ وَلَيْسَ بِهَا مَاءٌ يُسْتَعْذَبُ غَيْرَ بِرِ رُوْمَةَ فَقَالَ رَسُولُ اللهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ مَنْ يَّشْتَرِى بِشُرَرُوْمَةً فَيَجْعَلُ دَلْوَهُ مَعَ دِلَاءِ الْمُسْلِمِينَ بِغَيْرٍ لَّهُ مِنْهَا فِي الْجَنَّةِ فَشَرَيْتُهَا مِنْ صُلْبِ مَالِي متوجہ ہوئے ان کی طرف حضرت عثمان رضی اللہ عنہ اور فرمایا آپ رضی اللہ عنہ نے: میں تم کو واسطہ دیتا ہوں اللہ کا اور اسلام کا تم جانتے ہو کہ رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم جب مدینہ میں تشریف لائے تو یہاں میٹھا پانی پینے کو نہیں تھا سوا بئر رومہ کے اور فرمایا رسول خدا صلی اللہ علیہ وسلم نے جو اس بئر رومہ کو خریدے اور سب مسلمانوں کے برابر اپنا بھی ڈول سمجھے یعنی کچھ زیادہ تصرف اپنا نہ چاہے، چن لیا جائے گا بدلہ اس کا جنت سے۔سو خریدا میں نے اس کو اپنے اصل مال سے۔“ 66 (ج) عدل و انصاف کا قیام: ( ترمذی ابواب المناقب۔باب مناقب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ) حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کے عدل و انصاف کے بارے میں بیان کرتے ہوئے حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ فرماتے چنانچہ طبری جلد 5 صفحہ 44 میں تما ذبان ابن ہرمزان اپنے والد کے قتل کا واقعہ بیان کرتا ہے۔ہرمزان ایک ایرانی رئیس اور مجوسی المذہب تھا اور حضرت عمر رضی اللہ عنہ خلیفہ ثانی کے قتل کی سازش میں شریک ہونے کا شبہ 102