مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 100 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 100

100 حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: ”رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی وفات کے قریب ایک لشکر رومی علاقہ پر حملہ کرنے کے لئے تیار کیا تھا اور حضرت اسامہ رضی اللہ عنہ کو اس کا افسر مقرر کیا تھا۔یہ لشکر ابھی روانہ نہیں ہوا تھا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا گئے اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر جب عرب مرتد ہو گیا تو صحابہ نے سوچا کہ اگرایسی بغاوت کے وقت اسامہ رضی اللہ عنہ کا لشکر ابھی رومی علاقہ پر حملہ کرنے کے لیے بھیج دیا گیا تو پیچھے صرف بوڑھے مرد اور بچے اور عورتیں رہ جائیں گی اور مدینہ کی حفاظت کا کوئی سامان نہیں رہے گا چنانچہ انہوں نے تجویز کی کہ اکابر صحابہ رضی اللہ عنہم کا ایک وفد حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کی خدمت میں جائے اور ان سے درخواست کرے کہ وہ اس لشکر کو بغاوت کے فرو ہونے تک روک لیں۔چنانچہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ اور دوسرے بڑے بڑے صحابہ رضی اللہ عنہم آپ رضی اللہ عنہ کی خدمت میں حاضر ہوئے اور انہوں نے یہ درخواست پیش کی۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب یہ بات سنی تو انہوں نے نہایت غصہ سے اس وفد کو جواب دیا کہ کیا تم یہ چاہتے ہو کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ابو قحافہ کا بیٹا پہلا یہ کام کرے کہ جس لشکر کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے روانہ کرنے کا حکم دیا تھا اسے روک لے؟ پھر آپ نے فرمایا! اگر دشمن کی فوجیں مدینہ میں گھس آئیں اور کتے مسلمانوں کی لاشیں گھسیٹتے پھریں تب بھی میں اس لشکر کو نہیں روکوں گا جس کو روانہ کرنے کا رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فیصلہ فرمایا تھا۔“ ༧ ( سیر روحانی مجموعه تقاریر حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ - صفحہ 491) 2 بطور خلیفہ راشد ثانی حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے کار ہائے نمایاں: (۱) خزانہ کا مستقل قیام حضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے اس کارنامے کے بارے سیر الصحابہ میں لکھا ہے کہ: حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے تقریباً 15 ہجری میں ایک مستقل خزانہ کی ضرورت محسوس کی اور مجلس شوری کی منظوری کے بعد مدینہ منورہ میں بہت بڑا خزانہ قائم کیا۔دارالخلافہ کے علاوہ تمام اضلاع اور صوبہ جات میں بھی اس کی شاخیں قائم کی گئیں اور ہر جگہ اس محکمہ کے جدا گانہ افسر مقرر ہوئے۔مثلاً اصفہان میں خالد بن رضی اللہ عنہ حارث اور کوفہ میں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ خزانہ کے افسر تھے۔صوبہ جات اور اضلاع کے بیت المال میں مختلف آمدنیوں کی جو رقم آتی تھی وہ وہاں کے سالانہ مصارف کے بعد اختتام سال پرصدر خزانہ یعنی مدینہ منورہ کے بیت المال میں منتقل کر دی جاتی تھی۔صدر بیت المال کی وسعت کا اندازہ اس سے ہو سکتا ہے کہ دارالخلافہ کے باشندوں کی جو تنخواہیں اور وظائف مقرر تھے، صرف اس کی تعداد تین کروڑ درہم تھی۔بیت المال کے حساب کتاب کے لیے مختلف رجسٹر بنوائے، اس وقت تک کسی مستقل سن کا عرب میں رواج نہ تھا حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے 12 ہجری میں سن ہجری ایجاد کر کے یہ کمی بھی پوری کر دی۔“ (سیر اصحابہ جلد 1 - صفحه 140) (ب) ہمدردی خلق: