مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 354
(Indian) اور ایک انگیریز لیڈی ڈاکٹر (English Lady Doctor) سے بھی علاج کروایا لیکن کوئی شفا نہ ہوئی۔خاکسار مع فیملی 1999 ء میں گھانا سے انگلستان آیا۔حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ سے ملاقات کے دوران دعا کی درخواست کی۔خاکسار کی اہلیہ کو ہومیو پیتھک سے کافی دلچسپی ہے۔چنانچہ انہوں نے حضور کی کتاب سے مختلف ادویات کا مطالعہ کیا اور مندرجہ ذیل نسخہ استعمال کیا: Sulphur CM کی ایک خوراک۔اگلے ماہ Sepia CM کی ایک خوراک۔اس کے بعد تقریباً دو ماہ تک درج ذیل نسخہ استعمال کیا: Kali ,Phos Calc Phos Ferrum Phos تمیں طاقت میں اور۔Lillium Tig بھی تمہیں طاقت میں۔اس دوائی کے استعمال کے بعد اللہ تعالیٰ نے فضل فرمایا اور اللہ تعالیٰ نے شادی کے اٹھارہ سال بعد 23 فروری 2001 ء کو ہمیں بیٹی سے نوازا۔“ نشان پر آئندہ بیٹا لے کر آنا: الفضل انٹر نیشنل 28 ستمبر 2001ء) حضور رحمہ اللہ تعالیٰ نے خطبہ جمعہ فرمودہ 25 جولائی 1986 ء میں مندرجہ ذیل قبولیت دعا کا واقعہ سنایا: نائیجیریا (Nigeria) سے سیف اللہ چیمہ تحریر فرماتے ہیں کہ گزشتہ مرتبہ جب میں آپ سے ملنے آیا میری بیوی بھی ساتھ تھی۔ہم نے ذکر کیا کہ ہماری شادی پر ایک عرصہ گزر گیا ہے اور کوئی اولاد نہیں۔اس وقت آپ نے بے اختیار یہ فقرہ کہا کہ: ”بشری بیٹی آئندہ جب آؤ تو بیٹا لے کر آنا وہ کہتے ہیں کہ الحمدللہ آپ کو یہ خوشخبری دے رہا ہوں کہ اب جب ہم آپ سے ملنے آئیں گے تو بیٹا لے کر آئیں گے کیونکہ اللہ تعالیٰ وہ بیٹا عطا فرما چکا ہے۔(ضمیمہ ماہنامہ خالد ربوہ جولائی 1987ء) خوبصورت اور عمر پانے والا بچہ پیدا ہوگا: حضرت خلیفۃ المسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے ایک خطاب میں اپنی قبولیت دعا کا انتہائی ایمان افروز روح پرور اور اعجازی پر مشتمل واقعہ بیان کرتے ہوئے فرمایا: غانا جب میں پہنچا ہوں تو وہاں کے ایک چیف نانا اوجیفو (Nana Ojefo) صاحب جو عیسائی مذہب سے تعلق رکھتے تھے وہ پہلی رات مجھے ملنے کیلئے آئے اور نماز کے بعد مجلس میں انہوں نے خواہش کا اظہار کیا کہ میں آپ کے ہاتھ پر دستی بیعت کرتا چاہتا ہوں۔جب میں نے مربی صاحب سے وجہ پوچھی تو جو واقعہ سنایا وہ میں آپ کو سناتا ہوں وہ کہتے ہیں یہ خصوصیت کے ساتھ ایک تو ہم پرست کا ہن قوم سے تعلق رکھتے ہیں۔ان لوگوں میں بڑے رسم و رواج ہیں اور بڑے تو ہمات ہیں ان کی بیوی کا حمل ہر دفعہ ضائع ہو جاتا تھا اور کبھی مدت پوری نہیں ہوتی تھی اس پریشانی کا ذکر انہوں نے عیسائی پادریوں سے کیا اور دم پھونکنے والے کے پاس گئے کوئی فائدہ نہ ہوا۔آخر جب اس طرف سے مایوس ہو گئے تو انہوں نے امام وہاب صاحب سے بات کی اور کہا کہ میں ہوں عیسائی لیکن مجھے عیسائیت پر سے دعا کا یقین اٹھ گیا ہے آپ لوگوں کے متعلق سنا ہے کہ آپ دعا کرتے ہیں تو خدا قبول بھی کرتا ہے تو اپنے امام کو میری طرف سے یہ ساری کہانی لکھیں اور ان کو بتائیں کہ مصیبت میں ہم گرفتار ہیں ہمارے لئے دعا کریں۔چنانچہ انہوں نے ان کی دعا کا خط مجھے بھجوایا۔اب 354