مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء

by Other Authors

Page 353 of 600

مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 353

ہے۔،، روزنامه الفضل سیدنا طاہر نمبر 27 دسمبر 2003۔صفحہ 54) بچہ فر فر بولنے لگ گیا: مکرم نذیر احمد سندھو صاحب ایڈوکیٹ بوریوالہ تحریر کرتے ہیں کہ : اپریل 1980ء میں صدر مجلس انصار الله مرکز یہ حضرت صاحبزادہ مرزا طاہر احمد صاحب کے حکم پر دعوت الی اللہ کا ایک پروگرام میرے آبائی گاؤں چک 30/11/1 میں منعقد ہوا۔مکرم چودھری نذیر احمد باجوہ صاحب امیر ضلع ساہیوال و صدر مقامی اس تقریب کے میزبان تھے۔علاقے کے معززین مدعو تھے۔بوریوالا میں میرے ایک صاحب ثروت اور بااثر دوست ملک نذیر حسین صاحب لنگڑیال (مرحوم) کے میزبان ن فیملی سے پہلے سے گہرے مراسم تھے۔میں بھی ملک صاحب کو ساتھ لے کر تقریب میں شامل ہوا۔حضرت میاں صاحب (حضرت خليفة أمسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ سے میری ایک محبت بھری ملاقات اسی گاؤں میں ہوئی۔دعوت الی اللہ کے پروگرام میں معمول کے مطابق خطاب اور سوال و جواب کی بھر پور مجلس ہوئی اپنے خطاب کے آخر میں آپ کر۔(حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی نے حق و صداقت میں رہنمائی کے لئے دعا کرنے کی تحریک کی۔بعد تقریب باجوہ صاحب نے ملک صباحت کا تعارف حضرت میاں صاحب (حضرت خلیفہ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ سے کرایا۔میری موجودگی میں ملک صاحب نے اپنی مقامی بولی میں بڑی چاہت سے پوچھا: ”میاں صاحب ! دعاواں قبول دی تھیندیاں نہیں۔“ یعنی کیا دعائیں واقعی قبول ہوتی ہیں؟ آپ (حضرت خلیفۃ اسیح الرابع رحمہ اللہ تعالیٰ نے فلسفہ دعا پر روشنی ڈالی اور ملک صاحب کی درخواست پر ان کیلئے دعا کرنے کا وعدہ لیا۔آپ کو اطلاع دی گئی کہ ملک صاحب کا بیٹا صفدر حسین جوان ہو چکا ہے۔ہائی سکول کی بڑی جماعت میں پڑھتا ہے مگر سخت لنت کی وجہ سے کسی سے بات بھی نہیں کر سکتا ہر جگہ سے دعائیں اور دوائیں لی ہیں مگر کچھ فائدہ نہیں ہوا۔خبر پاتے ہی آپ (حضرت خلیفۃ امسیح الرابع رحمہ اللہ تعالی) نے دعا جاری رکھنے کی حامی بھری نیز ایک مخصوص ہومیو دوا کھلانے کی تحریک فرمائی۔ادھر ملک صاحب نے بازار سے دوا منگوالی ادھر سکول ٹیچر مبارک باد کہنے گھر پہنچ گیا کہ آج ملک صفدر حسین ماشاء اللہ فر فر بول رہا ہے۔الحمد للہ کہ بوریوالہ میں قبولیت دعا کا یہ نشان زندہ موجود ہے جو شفا بدوں دوا کا مظہر بھی ہے۔اس واقعہ کے چند سال بعد تک ملک صاحب حیات رہے مگر بوجوہ قبول احمدیت کا اعلان نہ کر سکے مگر تا دم آخر تسلیم کرتے رہے کہ: ”دعاواں قبول وی تھیندیاں نیں۔“ اٹھارہ سال بعد بچی پیدا ہوئی: (روز نامہ الفضل سید نا طاہر نمبر 27 دسمبر 2003ء۔صفحہ 54) مکرم قریشی داؤد احمد صاحب ساجد مربی سلسلہ برطانیہ لکھتے ہیں کہ: " خاکسار کی شادی کے چند سال بعد ہمارے ہاں اولاد نہ ہونے کی وجہ سے مختلف قسم کے علاج کروانے شروع کئے۔پاکستان میں قیام کے دوران ڈاکٹر فہمیدہ صاحبہ (ربوہ) ڈاکٹر نصرت صاحبہ (ربوہ) کے علاوہ بہت سے ڈاکٹروں سے علاج کروایا۔گھانا (Ghana) میں قیام کے دوران ہو میو پیتھک کے علاوہ ایک انڈین 353