مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 338
دعا کروں گا وہ انشاء اللہ فرداً فرداً ہر شخص کی دعا سے زیادہ طاقت رکھے گی۔“ حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ اپنی دعاؤں کی قبولیت کے متعلق فرماتے ہیں: قبولیت دعا کا نشان: منصب خلافت - انوار العلوم جلد 2 صفحہ 47) ”خدا کا سایہ سر پر ہونے کے دوسرے معنی یہ بھی ہیں کہ اللہ تعالیٰ اس کی کثرت سے دعائیں سنے گا یہ علامت بھی اتنی بہین اور واضح طور پر میرے اندر پائی جاتی ہے کہ اس امر کی ہزاروں نہیں لاکھوں مثالیں مل سکتی ہیں کہ غیر معمولی حالات میں اللہ تعالیٰ نے میری دعائیں سنیں وَذَلِكَ فَضْلُ اللهِ يُؤْتِيهِ مَنْ يَّشَآءُ۔پھر یہ نہیں کہ میری دعاؤں کی قبولیت کے صرف احمدی گواہ ہیں بلکہ خدا تعالیٰ کے فضل سے ہزاروں عیسائی، ہزاروں ہندو اور ہزاروں غیر احمدی بھی اس بات کے گواہ ہیں کہ اللہ تعالیٰ نے ان کے متعلق میری دعاؤں کو شرف قبولیت بخشا اور ان کی مشکلات کو دور کیا۔الفضل میں بھی ایسے بیسیوں خطوط وقتاً فوقتاً چھپتے رہتے ہیں کہ کس طرح مخالف حالات میں لوگوں نے مجھے دعاؤں کے لئے لکھا اور اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے ان کی مشکلات کو دور کر دیا۔اس معاملہ میں بھی میں نے بار بار چیلنج دیا ہے کہ اگر کسی میں ہمت ہے تو وہ دعاؤں کی قبولیت کے سلسلہ میں ہی میرا مقابلہ کر کے دیکھ مگر کوئی مقابل پر نہیں آیا۔۔۔۔اگر لوگ اس معاملہ میں میری دعاؤں کی قبولیت کو چاہتے ہیں تو وہ بعض سخت مریض قرعہ اندازی کے ذریعہ تقسیم کر لیں اور پھر دیکھیں کہ کون ہے جس کی دعاؤں کو خدا تعالیٰ قبول کرتا ہے کس کے مریض اچھے ہوتے ہیں اور کس کے مریض اچھے نہیں ہوتے۔“ دیکھنا حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: الموعود۔صفحہ 182 تا 184) کسی دوست نے ایک غیر مبائع کے متعلق بتایا کہ وہ کہتے ہیں عقائد تو ہمارے ہی درست ہیں مگر دعائیں میاں صاحب کی زیادہ قبول ہوتی ہیں۔“ حضرت (خلافت راشدہ انوار العلوم جلد 15۔صفحہ 551) رت خليفة أمسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”خدا تعالیٰ کی ذات اتنی پیاری اور محبت کرنے والی ہے کہ انسانی عقل اس کا تصور بھی نہیں کر سکتی۔اس تھوڑے سے عرصہ میں خدا تعالیٰ نے ہزار ہا لوگوں کی ضرورتوں کو اپنے فضل سے میری دعا کے ذریعہ پورا کیا، جن کے حق میں دعائیں قبول ہوئیں وہ ہر جگہ کے ہیں۔“ (الفضل 25 جون 1971ء) حضرت خلیفۃ المسیح الثالث رحمہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں: ”میری دعائیں ہمیشہ آپ کے ساتھ ہیں اور میں ہمیشہ آپ کی دعاؤں کا بھوکا ہوں۔میں نے آپ کی تسکین قلب کے لئے، آپ کے بار ہلکا کرنے کیلئے، آپ کی پریشانیوں کو دور کرنے کے لئے آپ رب رحیم قبولیت دعا کا نشان مانگا ہے اور مجھے پور ایقین اور پورا بھروسہ ہے اس پاک ذات پر کہ وہ میری اس التجا کو رد الفضل 30 دسمبر 1965ءصفحہ1۔2) نہیں کرے گا۔“ 338