مقالہ جات برائے تقاریر دوران صد سالہ خلافت جوبلی ۲۰۰۸ء — Page 337
فرمایا: میں قدر اور عزت ہے۔اگر چہ دعا کا قبول ہو جانا ہر جگہ لازمی امر نہیں کبھی کبھی خدائے عز و جل اپنی مرضی بھی اختیار کرتا ہے لیکن اس میں کچھ بھی شک ہیں کہ مقبولین حضرت عزت کے لئے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ بہ نسبت دوسروں کے کثرت سے ان کی دعائیں قبول ہوتی ہیں اور کوئی استجابت دعا کے مرتبہ میں ان کا مقا بلہ نہیں کر سکتا۔“ (حقیقۃ الوحی۔روحانی خزائن جلد 22۔صفحہ 334) ایک اور جگہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے فرمایا: ” یہ بالکل سچ ہے کہ مقبولین کی اکثر دعائیں منظور ہوتی ہیں بلکہ بڑا معجزہ ان کا استجابت دعا ہی ہے۔جب ان کے دلوں میں کسی مصیبت کے وقت شدت سے بے قراری ہوتی ہے اور اس شدید بے قراری کی حالت میں وہ اپنے خدا کی طرف توجہ کرتے ہیں تو خدا اُن کی سنتا ہے اور اس وقت ان کا ہاتھ گو یا خدا کا ہاتھ ہوتا ہے۔خدا ایک مخفی خزانہ کی طرح ہے کامل مقبولین کے ذریعہ سے وہ اپنا چہرہ دکھلاتا ہے۔خدا کے نشان تبھی ظاہر ہوتے ہیں جب اس کے مقبول ستائے جاتے ہیں اور جب حد سے زیادہ اُن کو دُکھ دیا جاتا ہے تو سمجھو کہ خدا کا نشان نزدیک ہے بلکہ دروازہ پر کیونکہ یہ وہ قوم ہے کہ کوئی اپنے پیارے بیٹے سے ایسی محبت نہیں کرے گا جیسا کہ خدا ان لوگوں سے کرتا ہے جو دل و جان سے اس کے ہو جاتے ہیں وہ ان کے لئے عجائب کام دکھلاتا ہے اور ایسی اپنی قوت دکھلاتا ہے کہ جیسا ایک سوتا ہوا شیر جاگ اٹھتا ہے۔خدا مخفی ہے اور اس کے ظاہر کرنے والے یہی لوگ ہیں، وہ ہزاروں پردوں کے اندر ہے اور اس کا چہرہ دکھلانے والی یہی قوم ہے۔“ (حقیقة الوحی روحانی خزائن جلد 22۔صفحہ 21۔20) ارشاد حضرت خلیفۃ المسیح الاوّل رضی اللہ عنہ حضرت خلیفہ امسیح الاوّل رضی اللہ عنہ نے اپنے ایک درس قرآن کے دوران سورہ اخلاص کی تفسیر بیان کرتے ہوئے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے اور خوارق میں سے آپ علیہ السلام کی دعاؤں کی قبولیت ہے جس میں مقابلہ کے واسطے تمام جہان کے عیسائیوں، آریوں وغیرہ کو بارہا چیلنج دیا جا چکا ہے مگر کسی کو طاقت نہیں کہ اس کے مقابلہ میں کھڑا ہو سکے۔“ (ضمیمہ اخبار بدر۔صفحہ 39) حضرت خلیفۃ المسیح الثانی رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے بعد تمام دنیا کو چیلنج دیتا ہوں کہ اگر کوئی شخص ایسا ہے جسے اسلام کے مقابلہ میں اپنے مذہب کے سچا ہونے کا یقین ہے تو آئے اور ہم سے آکر مقابلہ کرلے۔۔۔۔۔۔۔۔اس وقت دنیا کو معلوم ہو جائے گا کہ خدا کس کی دعا قبول کرتا ہے۔میں دعوئی سے کہتا کہ ہماری ہی دعا قبول ہو گی۔“ ( الفضل 23 اکتوبر 1917ء) حضرت مصلح موعود رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ تعالیٰ جس کسی کو منصب خلافت پر سرفراز کرتا ہے تو اس کی دعاؤں کی قبولیت بڑھا دیتا ہے کیونکہ اگر اس کی دعائیں قبول نہ ہوں تو پھر اس کے اپنے انتخاب کی ہتک ہوتی ہے۔تم میرے لئے دعا کرو کہ مجھے تمہارے لئے زیادہ دعا کی توفیق ملے اور اللہ تعالیٰ ہماری ہر قسم کی سستی دور کر کے چستی پیدا کرے۔میں جو 337